کیا تمام تفاسیر حق ہیں یا اختلاف ممکن ہے؟
نہیں، تمام تفاسیر حق نہیں ہیں، ایک طرف قرآن اللہ کا واضح کلام ہے، اس میں بذات خود کوئی تضاد
نہیں، تمام تفاسیر حق نہیں ہیں، ایک طرف قرآن اللہ کا واضح کلام ہے، اس میں بذات خود کوئی تضاد
قرآن اپنی زبان اور اپنے بیان میں خود اپنا مفہوم واضح کرتا ہے۔ اس میں متشابہ اور محکم دونوں اقسام
عقیدہ کا اصول یہ ہے کہ اصل حجت اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت ہے، عقل اس کی
عقیدہ کا تعلق صرف وحی (قرآن و صحیح حدیث) سے ہے، کسی امام یا فقیہ کی ذاتی رائے عقیدہ میں
عقیدہ صرف وحی پر مبنی ہونا چاہیے، اس لیے اس میں اصل بنیاد قرآن اور صحیح حدیث ہے۔ حدیث میں
محدثین اور فقہاء کو اپنے اپنے فنون کے طور پر تو امام کہا جا سکتا ہے، اس لئے کہ یہ
اسلام میں صرف اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت حجت ہیں، کسی فن کے امام یا شیخ کا
محمد ﷺ کے بعد کوئی ایسا امام یا پیشوا مقرر نہیں کیا جا سکتا جسے دین میں معصوم یا وحی
مروجہ بیعت کے بغیر دین ناقص نہیں، کیونکہ دین اللہ اور رسول ﷺ کے ذریعے مکمل ہوچکا ہے۔ مروجہ بیعت
عورتوں کی بیعت قرآن و سنت سے ثابت ہے، لیکن اس کی نوعیت مردوں سے مختلف تھی۔ عورتوں کی بیعت