نہیں، تمام تفاسیر حق نہیں ہیں، ایک طرف قرآن اللہ کا واضح کلام ہے، اس میں بذات خود کوئی تضاد یا کسی باطل کی مداخلت نہیں ہے۔
إِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ
بے شک یہ ایک عزت والی کتاب ہے، اس کے آگے پیچھے سے باطل نہیں آسکتا، یہ حکمت والے اور قابلِ حمد کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
(حم السجدہ 41 -42)
یعنی نہ ماضی میں کوئی باطل اس میں شامل ہوا اور نہ مستقبل میں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے، اس کی حفاظت نہ کسی مسلک کے ذمے ہے نہ کسی فرقے کے، بلکہ اللہ نے خود فرمایا کہ
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
(الحجر: 9)
جبکہ دوسری طرف ہر مسلک کے اپنے اپنے مفسرین ہیں جب وہ آیات کی تفسیر کرتے ہیں تو اپنی علمی صلاحیت اور مسلکی وابستگی کی روشنی میں کرتے ہیں۔ اس لیے اکثر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ جبکہ قرآن جو ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے، نہ کہ کسی مسلک کی بقا کے لیے۔ لہذا جب مفسر اپنی تفسیر کو مسلک کے تابع کر دیتا ہے تو اصل مقصد یعنی ہدایت سے انحراف ہو جاتا ہے۔ جو زبردست اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔
مفسر کو صحیح علم، قرآن کی روشنی، ثابت شدہ حدیثِ نبویؐ اور فہمِ صحابہؓ کے ساتھ تفسیر کرنی چاہیے۔ نہ کہ اپنے اپنے مسلک کی ترجمانی میں تفسیرہو بلکہ حق کی ترجمانی ہونی چاہیے چاہے خود ساختہ مسلک کی بقا رہے یا نہ رہے یہی وہ طریقہ ہے جو امت کو حق پر جمع کرسکتا ہے اور مسلکی تعصبات سے دور کرسکتا ہے۔ اس لیے حق تفسیر وہی ہے جو قرآن کو قرآن سے، صحیح حدیث سے اور صحابہؓ کے فہم سے ثابت ہو۔ باقی آراء اگر ان کے خلاف ہوں تو وہ باطل ہیں۔