کیا مروجہ بیعت کے بغیر دین ناقص رہتا ہے؟

مروجہ بیعت کے بغیر دین ناقص نہیں، کیونکہ دین اللہ اور رسول ﷺ کے ذریعے مکمل ہوچکا ہے۔ مروجہ بیعت کو دین کی تکمیل سمجھنا توحید اور سنت کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔
(المائدہ :3)

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کسی اضافی بیعت یا کسی شیخ کے ہاتھ پکڑنے کے بغیر مکمل ہے۔ دین کی اصل بنیاد ایمان، صلوۃ، روزہ، زکوٰۃ، حج اور نبی ﷺ کی اطاعت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
(صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔

لہٰذا مروجہ خانقاہی اور صوفیانہ طرز کی بیعت کو دین کی شرط یا تکمیل قرار دینا بدعت ہے۔ صحابہؓ اور تابعین نے کبھی کسی شیخ کے ہاتھ پر بیعت کو نجات کی شرط نہیں سمجھا۔ اصل بیعت نبی ﷺ سے ایمان و اطاعت پر تھی، اور اس کے بعد خلیفہ المسلمین سے اتحاد و نظم کے لیے۔

تلاش کریں