کیا کسی امام کی رائے عقیدہ میں حجت ہو سکتی ہے؟

عقیدہ کا تعلق صرف وحی (قرآن و صحیح حدیث) سے ہے، کسی امام یا فقیہ کی ذاتی رائے عقیدہ میں حجت نہیں ہو سکتی۔

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
پس اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔
(النساء 59)

اس سے واضح ہوا کہ اصل مرجع اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی صحیح حدیث ہے۔ ائمہ کرام کی آراء کسی مسئلے میں جزوی رہنمائی کا ذریعہ تو ہو سکتی ہیں مگر عقیدہ میں حتمی دلیل نہیں۔

یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء و راہبوں کی رائے کو عقیدہ میں داخل کر لیا تو گمراہی میں پڑ گئے۔ ملاھظہ ہوں (التوبہ 31)۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔
موطأ الإمام مالك – كِتَابُ الْقَدَرِ – النهي عن القول بالقدر:3338

لہذا عقیدہ میں حجت صرف قرآن، حدیثِ صحیحہ، اور صحابہ کا فہم ہے۔ امام کی رائے کو عقیدہ کا حصہ بنانا بدعت اور گمراہی ہے۔

تلاش کریں