کیا عورتیں بھی بیعت کر سکتی ہیں؟

عورتوں کی بیعت قرآن و سنت سے ثابت ہے، لیکن اس کی نوعیت مردوں سے مختلف تھی۔ عورتوں کی بیعت اطاعتِ رسول ﷺ اور دین پر ثابت قدم رہنے کے لیے تھی، نہ کہ اقتدار یا قیادت کے معاملے میں۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
اے نبی! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں اس بات پر بیعت کرنے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، کوئی بہتان نہیں باندھیں گی اور نیکی کے کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو آپ ان سے بیعت لے لیجیے اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجیے۔
(الممتحنة: 12)

امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے عورتوں سے بیعت لی، لیکن ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بلکہ قولی بیعت تھی۔
ام المومنین عائشہؓ فرماتی ہیں
والله ما مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يد امراة قط، غير انه بايعهن بالكلام
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے (بیعت لیتے وقت) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف زبان سے (بیعت لیتے تھے)۔
(بخاری، حدیث 5288)

عورتوں کے لیے بیعت ثابت ہے۔ یہ بیعت زبانی تھی، مصافحہ یا ہاتھ پر ہاتھ رکھنا نہیں تھا۔ مقصد اطاعتِ دین اور معصیت سے اجتناب ہے۔ لیکن آج کسی شیخ یا پیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا عورت کے لیے نہ فرض ہے نہ لازم؛ یہ مروجہ بدعات میں شامل ہے۔

تلاش کریں