کیا محدثین کو امام کہہ سکتے ہیں؟

محدثین اور فقہاء کو اپنے اپنے فنون کے طور پر تو امام کہا جا سکتا ہے، اس لئے کہ یہ لفظ لغوی معنی میں ہے، نہ کہ عقیدہ و عصمت کے معنی میں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا

وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا
اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔
(الأنبياء 73)

یہاں امام سے مراد رہنمائی کرنے والے ہیں، نہ کہ معصوم یا وحی پانے والے۔

نبی ﷺ کے بعد کسی کو معصوم ماننا یا اس کے قول کو وحی کی طرح واجب الاطاعت سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اطاعت صرف اللہ اور رسول ﷺ کے لیے ہے۔ فرمایا

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۝
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے با اختیار لوگوں کی بھی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی معاملہ میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو اس معاملہ کو اللہ اور اسکے رسول کے سپرد کر دو، اگر اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بہت بہتر ہے، اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت اچھا ہے۔
(النساء: 59)

محدثین کو ان کے فن کے اعتبار سے امام کہنا درست ہے، کیونکہ امام کا لغوی مطلب ہوتا ہے پیشوا، رہنما، آگے بڑھانے والا۔ جیسے امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ترمذیؒ وغیرہ کو امام کہا جاتا ہے کیونکہ وہ علمِ حدیث کے رہنما اور پیشوا تھے۔ ان کی آراء سے رہنمائی لی جاتی ہے مگر وہ وحی نہیں، اس لیے ان کے قول کو قرآن و سنت پر مقدم کرنا یا معصوم ماننا گمراہی ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا
تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله، وسنة نبيه
چھوڑے جاتا ہوں میں تم میں دو چیزوں کو، نہیں گمراہ ہو گے جب تک پکڑے رہو گے ان کو، کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت۔
(الموطأ امام مالک، حدیث 1620)

اس لیے محدثین کو امام کہنا دراصل ان کی علمی امامت کا اعتراف ہے، نہ کہ ان کو معصوم یا قرآن و سنت پر مقدم سمجھنا۔ ان کی امامت فنِ حدیث میں رہنمائی کے معنی میں ہے، عقیدہ یا اطاعتِ شرعی کے معنی میں نہیں۔

تلاش کریں