قرآن اپنی زبان اور اپنے بیان میں خود اپنا مفہوم واضح کرتا ہے۔ اس میں متشابہ اور محکم دونوں اقسام کی آیات ہیں، اور محکم آیات ہی اصل تفسیر اور بنیاد ہیں۔ قرآن اپنے اندر مثالیں، قصے اور احکام اس طرح بیان کرتا ہے کہ ہدایت چاہنے والے کے لئے بات صاف ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا کہ
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
اللہ نے سب سے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، ایسی کتاب جو ہم رنگ ہے اور بار بار دہرائی جاتی ہے۔ اس سے ان لوگوں کی کھالیں کھڑی ہو جاتی ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم پڑ جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، جسے چاہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
(الزمر 23)
اس آیت میں صاف بتایا گیا کہ قرآن خود اپنی وضاحت کرتا ہے، اس میں تکرار ہے، تشبیہ ہے، اور اس کا انداز ایسا ہے کہ دل اور دماغ پر اثر ڈالتا ہے۔ یعنی یہ کتاب صرف الفاظ نہیں، بلکہ اپنے اندر ہی ہدایت، بیان اور وضاحت رکھتی ہے۔