کیا برزخ میں سزا کا عقیدہ قرآن و حدیث سے ہے؟
جی بالکل۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو مرنے کے بعد قیامت سے پہلے
جی بالکل۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو مرنے کے بعد قیامت سے پہلے
قرآن و حدیث کے مطابق مرنے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی، بلکہ توبہ صرف زندگی میں ہی ممکن ہے۔
اذکار گناہوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں، لیکن اعمال کا حساب قیامت میں سب کے لیے
نہیں، نجات صرف اہلِ بیت کی محبت سے مشروط نہیں ہے، بلکہ اصل بنیاد ایمان اور اعمال صالحہ ہیں۔ اہلِ
نہیں، اعمال کے بغیر جنت ملنا ممکن نہیں، کیونکہ ایمان کے بعد اعمال ہی انسان کے اخلاص اور اطاعت کا
نہیں، شفاعت بذاتِ خود نجات کی ضمانت نہیں، بلکہ شفاعت صرف اسی کے لیے ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ
نہیں، صرف محبتِ رسول ﷺ نجات کے لیے کافی نہیں، بلکہ ایمان اور اطاعت بھی لازم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے
نہیں، بغیر ایمان کے اعمال آخرت میں کسی فائدے کا سبب نہیں بن سکتے۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ
یہ حرام ہے، غلو ہے اور کھلا شرک ہے، کیونکہ سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ فَلَا تَسْجُدُوا
یہ عقیدہ رکھنا کہ انبیاء کرام علیہھم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں یہ شرک کا چور دروازہ ہے، کیونکہ