قرآن و حدیث کے مطابق مرنے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی، بلکہ توبہ صرف زندگی میں ہی ممکن ہے۔
وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ
ترجمہ: اور توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں جو گناہ کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب اُن میں سے کسی کو موت آ جاتی ہے تو کہتا ہے اب میں توبہ کرتا ہوں۔
(النساء: 18)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ
بے شک اللہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک اس کی روح گلے تک نہ پہنچ جائے۔
(جامع ترمذی، حدیث 3537، صحیح ابن ماجہ، حدیث 4253)
یعنی جب موت کا وقت آ جائے اور جان نکلنے لگے تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں، اور موت کے بعد تو بالکل بھی نہیں۔