اذکار گناہوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں، لیکن اعمال کا حساب قیامت میں سب کے لیے ہوگا۔ کوئی ذکر ایسا نہیں جو مکمل طور پر حساب کو ختم کر دے۔ ہاں، ذکر کثرت سے کرنے والوں کے لیے اللہ آسان حساب یا مغفرت کا فیصلہ فرماتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
فَذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِى وَلَا تَكْفُرُونِ
پس تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔(البقرۃ: 152)
نبی ﷺ نے فرمایا
مَن قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِن كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان الله وبحمده کہے، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
(صحیح بخاری، حدیث 6405، صحیح مسلم، حدیث 2691)
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِۦ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًا
پھر جسے اس کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا، اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ (الانشقاق: 7-9)
عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تو فرماتا ہے آسان حساب؟
آپ ﷺ نے فرمایا
من نوقش الحساب عذب، قالت قلت اليس يقول الله تعالى: فسوف يحاسب حسابا يسيرا سورة الانشقاق آية 8 قال ذلك العرض
جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو ضرور عذاب ہو گا۔“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے فسوف يحاسب حسابا يسير۔ پھر عنقریب ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد صرف پیشی ہے
(صحیح بخاری، حدیث 6536، صحیح مسلم، حدیث 2876)
ذکر اور نیک اعمال انسان کو اس مقام تک پہنچا سکتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ صرف اعمال دکھا دے اور بغیر سخت مواخذے کے معاف فرما دے۔
لیکن مکمل طور پر حساب سے بچنا کسی کے لیے نہیں، البتہ اہلِ ایمان کے لیے اللہ آسانی فرما دے گا۔
یعنی اذکار مغفرت اور گناہوں کے مٹانے کا سبب ہیں، لیکن حسابِ اعمال قیامت کا لازمی مرحلہ ہے۔ البتہ کثرتِ ذکر سے اللہ تعالیٰ آسان حساب اور بخشش عطا کرتا ہے۔