نہیں، نجات صرف اہلِ بیت کی محبت سے مشروط نہیں ہے، بلکہ اصل بنیاد ایمان اور اعمال صالحہ ہیں۔ اہلِ بیت کی محبت ایمان کا حصہ ہے مگر اس پر نجات کو منحصر کرنا قرآن و سنت کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدْ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ
جو برائی کرے گا اس کا بدلہ دیا جائے گا اور اللہ کے سوا وہ کوئی حمایتی یا مددگار نہ پائے گا، اور جو نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ مؤمن ہو تو وہ جنت میں داخل ہوں گے۔
(النساء: 123-124)
نبی ﷺ نے فرمایا
يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ! سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا
اے محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ! مجھ سے میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو، لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے لیے کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔
(صحیح بخاری، حدیث 2753)
لہٰذا اہلِ بیت سے محبت ایمان کا تقاضا ہے، مگر نجات صرف اسی پر منحصر نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ کے بغیر ممکن نہیں۔