یہ حرام ہے، غلو ہے اور کھلا شرک ہے، کیونکہ سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔
فَلَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ
پس نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو، بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا۔(فصلت: 37)
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ مخلوق میں سے کسی کو سجدہ کرنا شرک ہے۔
بنی اسرائیل نے انبیاء اور صالحین کے آگے جھکنے کو عبادت بنا لیا، اللہ نے اس کو شرک قرار دیا اور ان پر لعنت کی گئی۔ یہ کلمہ گو امت بھی اسی نقشہ قدم پر چل پڑی۔
نبی ﷺ نے فرمایا
لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا
اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
(سنن ترمذی، حدیث 1159)
یہ حدیث قطعی دلیل ہے کہ نبی ﷺ نے کسی مخلوق کے لیے کسی قسم کے سجدے کو جائز نہیں ٹھہرایا، حتیٰ کہ اپنے لیے بھی نہیں۔
نبی ﷺ کو یا کسی بھی انسان کو سجدہ تعظیمی کرنا حرام اور شرک ہے۔ یہ عمل اللہ کے حق کو مخلوق کے ساتھ بانٹنے کے مترادف ہے۔ عبادت اور تعظیم کی انتہا صرف اللہ کے لیے خاص ہے، نبی ﷺ خود بھی اس سے بری ہیں۔