کیا صرف محبتِ رسول ﷺ نجات کے لیے کافی ہے؟

نہیں، صرف محبتِ رسول ﷺ نجات کے لیے کافی نہیں، بلکہ ایمان اور اطاعت بھی لازم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ
کہہ دیجیے، اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ (آل عمران: 31)

محبت کا دعویٰ اس وقت معتبر ہے جب اس کے ساتھ اتباع بھی ہو۔ صحابہ کرامؓ نے محض محبت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی بنا لیا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، قِيلَ وَمَنْ يَأْبَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى

میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اُس کے جو انکار کرے۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ! کون انکار کرے گا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔
(صحیح بخاری، حدیث 7280)

لہٰذا صرف محبت کافی نہیں بلکہ اطاعت اور اتباعِ رسول ﷺ کے بغیر نجات ممکن نہیں۔

تلاش کریں