:سوال
مسلک پرست نے حج کے تمام ارکان ادا کیے اور پھر کچھ عرصے کے بعد خالص ایمان کو اختیار کر لیا، اب فریضہٴ حج ادا کرتا ہے یا پہلے والا ہی کفایت کرے گا؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے اس کو تو ایمان کے بعد وہ فریضہٴ حج ادا کر لے، باقی یہ وعدہ ضرور ہے اللہ تعالیٰ کا کہ: مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا، سورہٴ فرقان میں کہ جو توبہ کرے، اپنے ایمان کو درست کر لے اور عملِ صالح کی روش اختیار کر لے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی گناہوں کی جگہ اس کی نیکیاں لکھ دیتا ہے، سیئات کی جگہ حسنات لکھ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ بہت غفور الرحیم ہے۔ تو یہ امید بھی رکھے لیکن پھر بھی اگر ایمان کی حالت میں اللہ تعالیٰ موقع دے دے، تو اپنے پورے شعور کے ساتھ، اطمینانِ قلب کے ساتھ حج کے لیے جائے، کیونکہ حج پہ جانا ایسا ہے کہ جیسے انسان دوبارہ پیدا ہو گیا ہے، بشرطیکہ حج اس نے حج کا حق ادا کر دیا۔ پورے حجِ مبرور ادا کیا، پورے بر و تقویٰ کے جذبات کے ساتھ، تمام اس کے ارکان کو اچھی طرح سے، تو اس طرح کر دے ادا ایمان کے بعد تو زیادہ بہتر ہے، ہم تو یہی آپ سے کہیں گے اگر وہ کر سکتا ہے۔ استطاعت