قیامت تک حق پر قائم رہنے والا گروہ؟

:سوال

  قیامت تک حق پر قائم رہنے والے جس طائفے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منصورون بھی کہا ہے، یعنی ان کی نصرت اور دفاع اللہ کی طرف سے ہوتا رہے گا، نیز یہ کہ جو ان کی مخالفت کرے گا وہ انھیں کچھ ضرر نہ پہنچا سکے گا، نیز یہ کہ یہ گروہ اسی حالتِ حق پر رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ سوال یہ ہے کہ یہ طائفہ منصورون کس جغرافیائی حدود کے حوالے سے ہے یا صرف نظریاتی؟ اس کی وضاحت۔

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

​یہ یہ اصل میں طائفہ جو ہو گا، ایک ایمان، جو نظریاتی چیز ہے، اس کے حوالے سے یہ بات ہے۔ یہ رہیں گے اور اگر حق و باطل کی کشمکش ہوتی ہے، جیسے قیامت کے قریب عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے علیہ السلام کے ظہور کے، علیہ السلام کے ظہور کے بعد تو ہو گی یہ کشمکش، جنگ و جدال، قتال، تو یہ مومن طائفہ یہی ان شاء اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کے ساتھ کرے گا اور باقی سب کفار کے گروہ ہوں گے جو ان سے جنگ کریں گے۔ تو یہ رہے گا اور اس میں کوئی جغرافیائی تعین نہیں ہے، صرف عیسیٰ علیہ السلام کا جو نزول ہو گا، قیامت کے قریب، وہ دمشق میں ہو گا۔ اس کے بارے میں تو یہ بتایا گیا ہے، حدیث میں ہے۔ باقی یہ طائفہ جو ہے کہیں بھی ہو، امید ہے کہ یہ پھر اس وقت قیامت کے قریب سمٹ کر وہاں پہنچ جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام کا استقبال کرے گا اور ان کے ساتھ مل کر جہاد و قتال کا فریضہ انجام دے گا۔

​ابھی یہ ان کے آنے سے پہلے جہاد، دعوت کی شکل میں کرتا رہے گا اور اس راہ میں آزمائشیں آئیں گی، صبر کر کے یہ ایک جہاد کا فریضہ انجام دیتا رہے گا۔

تلاش کریں