کیا منافق کی نمازِ جنازہ پڑھی جا سکتی ہے اگر معلوم ہو جائے کہ وہ منافق ہے؟

:سوال

اگر معلوم ہو جائے کہ فلاں آدمی منافق ہے تو کیا اس پر منافق کا فتویٰ اور اس کے مرنے پر صلاۃ الجنازہ ادا کی جا سکتی ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں۔

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

دیکھیے! منافقت کے اوپر تقاریر کی جاتی ہیں، درس دیے جاتے ہیں اور عام طور سے سمجھایا جاتا ہے۔ اگر کسی کے اندر ایسی چیز دیکھی جائے تو اس کو اچھے انداز میں اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے، غیر ضروری تنقید یا اس کے خلاف افواہیں پھیلانا یا ایک مجلس کے اندر اجتماع میں اس کو ذلیل کرنا، حقیر کرنا، یہ ایمان کے منافی ہے، یہ درست نہیں ہے۔

​نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسا نہیں کیا، آیات جو نازل ہوئیں قرآن اللہ کی طرف سے، وہ آیات پڑھ کے سنا دی گئیں۔ تو برابر کافی بڑی تعداد میں آیات ہیں، ہر سورہ کے اندر ہیں، سورہٴ بقرہ میں ہیں، آلِ عمران میں ہیں، سورہٴ نساء میں ہیں اور پوری سورہٴ منافقون ہے اس کے اوپر، تو وہ آیات تو پڑھ کے سنائی جاتی رہیں، تو وہ عام بالکل سب کے لیے تھیں، ان کے اوپر بھی چوٹ پڑتی تھی، تو اس طرح کا انداز تو ہم کر سکتے ہیں لیکن یہ کسی کے اوپر ایک دم ڈائریکٹ ہٹ کرنا اور اس کو بغاوت پر مجبور کرنا، یہ مناسب نہیں ہے۔ اچھے انداز سے، اصلاح کے جذبے سے ہم سمجھائیں گے کسی کو، تنہائی میں سمجھائیں یا درس وغیرہ میں اس طرح کی باتیں کر لیں، تو یہ ہونا چاہیے اور فتویٰ وغیرہ دینا اپنے جو ہمارے ساتھ چل رہے ہیں، ان کے اوپر فتوے بازی زیادہ نہیں کرنا چاہیے۔

​البتہ ان کے مرنے پر بھی صلاۃ الجنازہ جب تک کہ ان کا منافقـ نفاق ایسا نہیں ہے کہ جو کفر و شرک کی حد تک پہنچا ہوا ہو، صرف ایمان کی کمزوری اور عمل کی کمزوری ہے، ایسا ہے، تو اس پہ شوریٰ فیصلہ کرے گی اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے گا ان کی صلاۃ المیت وغیرہ کے حوالے سے۔

​نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عبداللہ ابن ابی ابن سلول کی بھی صلاۃ ادا کر لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس پر کافی کہا کہ: اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، چاہے آپ ان کی مغفرت کے لیے دعا کریں یا نہ کریں، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے تھے: جب تک اللہ تعالیٰ مجھے بالکل روکتا نہیں ہے، اس وقت تک تو میں مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا۔ سورہٴ توبہ میں فرمایا کہ آپ 70 مرتبہ کریں تو بھی اللہ معاف نہیں کرے گا، تو نبی علیہ السلام نے فرمایا: میں 71 مرتبہ کر دوں گا۔ تو جب تک کہ آپ کو بالکل حتمی طور سے منع نہیں کیا گیا، اس وقت تک آپ برابر یہاں تک کہ اس کو قمیص بھی دے دی اور صلاۃ المیت میں بھی اس کے چلے گئے۔

​تو ہمارا یہی انداز ہو گا، جب تک کہ ہم پوری طرح سے اس پہ نہ کریں، شوریٰ میں فیصلہ کریں گے اور دیکھیں گے، غور کریں گے اور اس کے بعد فیصلہ کریں گے۔

تلاش کریں