:سوال
ہماری جماعت کے اکثر ساتھی جماعت کے اندر ابـ رہتے ہوئے، جماعتی تقاضے سمجھتے ہوئے بھی مشرکوں کے جنازے اور ان کی رسم و رواج میں شرکت کرتے رہتے ہیں، تو کیا اس میں ایسے شخص مومن ہیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
دیکھیے! جو مشرکوں کے جنازے اور ان کی رسم و رواج میں شرکت کرتے ہیں، جنازے میں شرکت کرنا ان کی صلاۃ المیت میں، یہ تو بالکل کفر و شرک والی بات ہے، کیونکہ ان کے مشرک امام ہوتا ہے، اس کے پیچھے صلاۃ ادا کرنا، اس میں شرکت کرنا، یہ تو بالکل اور اس میں مغفرت کی دعا کرنا، قرآن کا صریح انکار ہے اور مشرک کے پیچھے صلاۃ ادا کرنا شرک ہے، ان کی اطاعت کرنا، یہ بالکل بھی صحیح بات نہیں ہے۔
باقی ان کے جنازے میں ویسے بھی شرکت نہیں کرنا چاہیے۔ اب یہ کوئی بیٹا ہے اور اس کی مجبوری اور کچھ نہیں کیا اس نے، تو وہ اپنے چلا جائے ساتھ میں اور کچھ وہاں تفہیم وغیرہ کر دے تو ٹھیک ہے، نہیں کرتا ہے تو اور باتیں، لیکن اس کو بھی جہاں تک بھی ہو، ہمارے ساتھی جو ہیں ایک نمونہ پیش کریں لوگوں کے سامنے کہ دیکھیے! یہ مشرک کی وجہ سے میرا باپ ہے لیکن میں اس کی پھر بھی اس کی میت میں شریک نہیں ہوا۔
تو ایسا ہونا چاہیے، باقی ہمارے مومن ساتھیوں کو قطعاً اس میں شرکت نہیں کرنا چاہیے۔ جو ایسا کرے گا تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، جواب طلبی کی جائے گی۔ اگر وہ فوراً توبہ استغفار کر لے، تو ٹھیک ہے، اس کے اللہ کے سپرد اس کا معاملہ ہے، دیکھا جائے گا اس کو۔ باقی کسی ذمہ داری سے اس کو وہ کر دیا جائے گا، بالکل سبکدوش، کوئی ذمہ داری نہیں اس کی لی جائے گی۔ اور اگر وہ اس پہ اصرار کرے، ہٹ دھرمی دکھائے، تو پھر اس سے اعانت بھی بند اور بعد میں زیادہ اس کے اوپر اور تادیبی کارروائی، سلام و کلام وغیرہ کی پابندی بھی ہو سکتی ہے۔
بہر حال ہمارے ساتھیوں کو بالکل ایمان کا اقرار کرنے کے بعد ایمان کے تقاضے پورے شعور کے ساتھ سمجھتے ہوئے ان کو پورا کرنا چاہیے۔