کچھ ذمہ دار اپنے لڑکوں کی شادی مشرکوں میں کرتے ہیں ان سے کیسے محبت ہونی چاہیے؟

:سوال

عرض یہ ہے کہ ذمہ دار ساتھی اپنی بیٹیوں کی شادیاں، مشرک… بیٹوں کی شادیاں مشرک لڑکیوں سے کر رہے ہیں جبکہ مومنہ لڑکیاں گھروں میں بیٹھی ہیں۔ ایسے لوگوں کی جماعت اور مومنوں کے ساتھ کیسی محبت ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

بالکل میں اس کو سخت ناپسند کرتا ہوں اور کراچی میں بھی اور یہاں بھی جب بھی ہمارے پروگرام ہوتے ہیں میں اس پر بہت زیادہ زور دیتا ہوں۔اور ہم نے کل پاکستان شوریٰ میں بھی اپنے امراء کی توجہ دلائی تھی اس بات کے اوپر کہ اپنے اپنے علاقوں میں، اپنے اپنے ضلعوں میں اس بات کی پابندی لگائیں ناظمین کی کہ وہ قوائف کو جمع رکھیں، لڑکے اور لڑکیوں کے حالات کو بالکل خفیہ طور سے جمع رکھیں اور جب ایک کفو، ملتے جلتے جوڑے ان کو نظر آئیں تو ان کی ملاقات کرائیں، تعارف کرائیں تاکہ رشتوں میں آسانیاں ہوں۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے، اس کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کریں۔ یہ ہمارے نظم کا ایک حصہ ہے اور نظم کی ذمہ داری کا ایک حصہ ہے، اس کو کرنا چاہیے۔

کیونکہ یہ بہت زیادہ پریشانی کا باعث ہے۔ اس کو اہمیت دینی چاہیے، کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ یہ جس کا مسئلہ ہے اسی کے دردِ سر، نہیں! یہ ہمارا دردِ سر ہے، یہ جماعت کا دردِ سر ہے کہ ہماری مومنہ بیٹیاں اگر بیٹھی ہیں تو ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ ہم سے اس کے بارے میں سوال کیا جا سکتا ہے۔ تو ہم اپنے امراء کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اپنے ناظمین کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور بار بار ہم اس چیز پر زور دیتے ہیں کہ اس کا انتظام کرنا چاہیے۔

آڈیو جواب ملاحظہ ہوں

تلاش کریں