درس میں بتایا گیا کہ قرآن کی قیمت لینے والے کے چہرے پر قیامت کے دن گوشت نہ ہوگا، کیا یہ صحیح ہے؟

:سوال

درس میں بتایا گیا کہ قرآن کی قیمت لینے والے کے چہرے میں قیامت کے دن گوشت نہیں ہوگا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کے اماموں کے وظائف مقرر کیے۔  

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

یہ بہت بڑا الزام ہے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اور یہ انہی پیشہ وروں نے، جو دین کو کمائی کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں، کھانے کمانے کا ذریعہ، انہوں نے یہ الزام تراشیاں کیں۔ یہ جب اللہ پر الزام تراشی کر سکتے ہیں، جن کے لیے قرآن نے پرانے لوگوں کے لیے کہا تھا، قرآن سے کے نزول سے پہلے لوگوں پر جو یہ کام کرتے تھے “وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا” اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر افترا پردازی کرے، جھوٹ باندھے۔ تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنے میں بے باک ہیں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ پر جھوٹ باندھنا تو آسان ہے۔

​عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو وظائف کا نظام تھا، یہ ایسا نظام ہے، آپ کی زیادہ سمجھ میں آئے گا اس لیے میں مثال دے کر سمجھا رہا ہوں، ورنہ مجھے یہ کوئی مرعوبیت والی بات نہیں ہے، امریکہ وغیرہ میں سوشل سیکیورٹی نظام ہے ایک، جو بے معاش ہوتے ہیں، بے روزگار ہوتے ہیں، ان کو سب کو امریکہ میں سوشل سیکیورٹی ملتی ہے، 300 یا 500 ڈالر ماہانہ سب کو ملتی ہے وہ۔ اور خاندان میں جتنے افراد ہوتے ہیں، ان کو تعداد کے لحاظ سے ملتی ہے۔ تو یہ نظام عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے موجد ہیں، انہوں نے اپنے زمانے میں اللہ کے فضل و کرم سے بیت المال بھرا ہوا تھا اور اتنی بیت المال کے اندر وسعت تھی کہ انہوں نے سب کے وظیفے مقرر کر دیے تھے اور وہ وظیفے کا یہ تھا کہ سب سے زیادہ آپ اگر ہماری کتاب دینداری دکانداری پڑھیں گے تو اس میں تفصیلات مل جائیں گی، امہات المؤمنین کا سب سے زیادہ شرح وظیفہ جو تھی، پر پر ہیڈ، وہ سب سے زیادہ امہات المؤمنین کے لیے تھی، پھر اس کے بعد بدری صحابہ کے لیے تھی، پھر اور دوسروں کے لیے تھی برابر، افراد جتنے ہوتے تھے گھر میں، بچے کی ولادت ہوتی تھی تو اس کا وظیفہ بڑھا دیا جاتا تھا، مجموعی وظیفہ۔ تو یہ یہ وظیفہ شروع کیا تھا، یہ خاص طور سے ان کو قرآن پڑھانے والوں کو اس کی اجرت نہیں دی جاتی تھی، یہ وظیفہ کہہ رہے ہیں، وظیفہ وہ سب کو ملتا تھا، لیکن اجرت نہیں دی جاتی تھی، قرآن پڑھانے والوں کو، امامت کرنے والوں کو، اذان دینے والوں کو۔

​جوں نبی علیہ السلام کی یہ حدیث موجود ہے، کیا عمر رضی اللہ عنہ اس حدیث کے خلاف کر سکتے ہیں؟ اپنے صحابہ کو آپ نے نصیحت فرمائی، جس کو اجازت دی امامت کی، اس سے کہا کہ مؤذن وہ رکھنا جو معاوضہ طلب نہ کرے، جو معاوضہ مانگے، اس کو مؤذن مت رکھنا، بغیر معاوضے کے مؤذن۔ تو جب نبی علیہ السلام خصوصیت کے ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں، کیونکہ امامت کرنے والے یہ ہیں، یہاں دیکھ کے گئے ہیں، ان کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا معاوضے کا اور اجرت کا، تو مؤذن کے لیے بتا دیا۔ تو جب یہ کہیں تو پھر اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ اس کے خلاف کرتے؟ دوسرے جو صحابہ کرام تھے وہ خاموشی سے دیکھتے رہتے منکر بات کو، منکر کام کو؟

​تو یہ ایسے الزام لگاتے ہیں بے سروپیر، بے سروپا اور عقل بھی استعمال نہیں کرتے کہ ان کی پکڑ کر لی جائے گی، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے شر سے بچائے۔

تلاش کریں