:سوال
کیا بارش کا پانی پاک ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
ہم اکثر اسکوٹر چلاتے رہ راستے میں دوسری گاڑیاں پانی اڑاتی ہیں جو ہمارے کپڑوں میں لگ جاتا ہے۔ اصل میں بارش کا پانی تو بالکل پاک ہے، بلا شبہ اور یہ ایسا پاک پانی ہے کہ آپ اگر برستے ہوئے پانی کو جمع کر لیں اور اسے پیئیں، تو ہر قسم کی بیماریوں سے یہ بالکل آپ کو محفوظ رکھنے والا پانی ہے، بہترین پانی ہے۔ لیکن یہ جو سڑک پر اور نیچے گرتا ہے، تو وہاں تو ہر قسم کی غلاظت ہوتی ہے، گٹر کا پانی بھی شامل ہو جاتا ہے، تو پھر یہ وہ پانی نہیں رہتا جو بارش کا گرا ہوا پانی ہے۔ ہاں، اس پانی کو اگر آپ اپنے گھروں میں جمع کر لیں، بالکل گرے ہوئے پانی کو، اس کے اندر اور کوئی ملاوٹ نہ ہو اور کوئی آلودگی نہ ہو تو بلا شبہ یہ بہترین پانی ہے اور جن مقامات پر کہ میٹھا پانی نہیں ہوتا، جزائر وغیرہ میں، سمندری جزائر کے اندر بہت سے ایسے جزیرے ہیں جہاں یہ جہاں وہ اگر کھدائی کریں، کنویں نکالیں، کوئی ذریعہ ان کے میٹھے پانی کا نہیں ہوتا، یہی بارش کا پانی وہ جمع کرتے ہیں، اسی کو پیتے ہیں، اسی سے اپنی ضروریات اور بھی پوری کرتے ہیں دھونے کی اور کپڑے دھونے کی، نہانے کی، غسل کی، کیونکہ ان کو جو پانی ملتا ہے کھود کر، وہ سمندر کا پانی ملتا ہے۔ تو اس لیے ان کے ہاں یہی پانی استعمال ہوتا ہے۔
تو یہ بہترین پانی ہے، بلا شبہ، لیکن اس کے ساتھ جو زمین کی غلاظت شامل ہو جاتی ہے، گٹر و گٹر وغیرہ کی، تو اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ کے کپڑوں پہ چھینٹیں آ جائیں، آپ اس کو دھو ڈالیں۔ نماز، صلاۃ ادا کرنے سے پہلے، کیونکہ اگر کپڑوں کے اندر نجاست ہے آپ کے، تو پھر صلاۃ نہیں ہوگی۔ تو اس لیے دھو ڈالیے، تبدیل کر لیجیے، جس کے پاس کپڑے ہوں، تبدیل کر لے وہ، اور اس کے بعد جہاں تک ہو، اس کو آپ اوپر کر لے کپڑوں کو کہ بچ سکیں، اگر نہ بچ سکیں، کہیں چھینٹیں آ جائیں، تو اس کو دھو ڈالیے آپ، پانی سے بالکل صاف کر لیجیے۔