بینک میں کام کرنے والے تو محنت کرتے ہیں، وہ خود تو سود نہیں لیتے اور مانتے کیوں؟  

:سوال

بینک میں کام کرنے والے تو محنت کرتے ہیں، وہ خود تو سود نہیں لیتے اور مانتے کیوں؟  

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

حدیث میں تو اصل میں یہ بات ہے کہ سود لینے والا، سود دینے والا، سود کا لکھنے والا اور گواہ، چاروں برابر ہیں جرم میں، اللہ کی نظر میں۔ تو بینک میں جو لوگ ملازمت کرتے ہیں، اگر اس حدیث کی زد میں آتے ہیں تو پھر ان کو اپنی فکر کرنی چاہیے، ان کی معاش پھر حلال نہیں ہے، ان کی معاش میں پھر حرام شامل ہے اور جس کی معاش میں حرام شامل ہو جاتا ہے تو اس کی پھر عبادت بھی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی ہے۔

تلاش کریں