:سوال
طلاق کے بارے میں وضاحت فرمائیں نیز ایک وقت میں تین طلاقیں دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی یا ایک شمار ہو گی؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
طلاق کا جو صحیح طریقہ ہے، اس کی وضاحت قرآن میں بھی موجود ہے اور احادیث میں بھی ہے کہ پہلی دفعہ طلاق دی جائے اسی ارادے سے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے، طلاق کی اجازت ہے لیکن یہ بہت ہی ناپسندیدہ اجازت ہے، ناپسندیدہ رخصت ہے اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ تو اس لیے اگر مجبوری ہو جائے تو طلاق کی طرف رخ کیا جائے ورنہ اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے، اصلاح کرنے کی کوشش کا کی جائے اپنی شریکِ حیات کی جو نسلِ انسانی چلتی ہے، بیوی اور شوہر کے یکجا ہونے سے تو اس کا پورا خیال رکھا جائے، تو ایک طلاق دی جائے طہر کی حالت میں، ماہواری وغیرہ میں نہ دی جائے، طہر کی حالت میں دی جائے جبکہ ملے نہ ہوں اس طہر میں اس کے ساتھ، جماع نہ کیا ہو۔
تو اس وقت کی جائے اور اس کے صرف ایک طلاق دی جائے۔ اور اس کے بعد اگر دینا ہی ہے دوسری طلاق، اب ایک طلاق دے کے ہم اس سے اگر ہم نے ارادہ بدل لیا طلاق دینے کا تو ہم رجوع بھی کر سکتے ہیں، بیوی رہتی ہے وہ، تین مہینے تک بیوی رہتی ہے، ایک طلاق لینے کے بعد یا دو طلاق دینے کے بعد۔ تو ہم تین مہینے کے اندر اندر اس سے رجوع کر سکتے ہیں۔ رجوع نہیں کرتے، ہم پکے ہیں اپنے اس ارادے میں کہ ہمیں طلاق دینا ہے، تو پھر دوسرے مہینے میں ہم طہر کی حالت میں اس کی پاکی کے بعد بغیر ملے ہوئے دوسری طلاق دے دیں۔
اور پھر اسی طرح تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے دیں، تیسری طلاق دینے کے بعد وہ بالکل طلاقِ بائن ہوتی ہے اور وہ علیحدہ ہوتی ہے، اب اس کے بعد اپنی عدت گزارنے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرتی ہے، اس کے ساتھ اب نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ پہلی طلاق کی، ایک یا دو طلاق دینے کے بعد عدت کے اندر رجوع کر سکتے ہیں، عدت کے بعد اگر کچھ ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ پھر دوبارہ یکجا ہونے کا خیال ہو، دونوں کی طرف سے اس بات کا ہو امکان، تو پھر نکاح کا پیغام اس کو دیا جائے کیونکہ تین مہینے کے بعد وہ آزاد ہو گئی، اب وہ چاہے تو کرے نکاح، چاہے نہ کرے، پیغام دیا جائے گا بالکل اسی طرح جیسے کسی اور عورت کو پیغام دیا جاتا ہے۔ تو ایک یا دو طلاق دے کے اس کو نکاح کا پیغام دیا جائے اور باقاعدہ نکاح ہو جائے، یہ تجدیدِ نکاح کا معاملہ ہے یہ۔
تو یہ تو صحیح طریقہ ہے۔ تین طلاق اگر ایک ساتھ دے دی جائیں غصے میں، تو یہ گناہ ہے، کیونکہ اللہ اور رسول کے احکامات اور تعلیمات کے خلاف یہ امر ہے اور یہ نفس پرستی والا انداز ہے۔ غصہ شیطانی عمل ہوتا ہے، غصے میں جو کام بھی کیا جائے وہ شیطانی عمل ہوتا ہے، تو یہ شیطان کی تبع ہے، شیطان کی بندگی ہے، اس لیے بہت بڑا گناہ ہے یہ، نبی علیہ السلام بہت ناراض ہوتے تھے ایسا کرنے والوں۔ لیکن طلاق نافذ العمل ہو جاتی ہے، طلاق ہو جاتی ہے، وقوع پذیر ہو جاتی ہے طلاق، طلاق واقع ہو جاتی ہے، تین طلاق اگر ایک ساتھ دے دیں تو یہ طلاقِ بتہ ہو گی علیحدہ کرنے والی، بائن یا بتہ اور مغلظہ، کیونکہ ایک ساتھ دی گئی ہے مغلظہ کہلاتی ہے مغلظہ۔
تو یہ احادیث سے بھی ثابت ہے، قرآن سے بھی ثابت ہے اور جو اس کی مخالفت کرنے والے ہیں صرف اہل الحدیث ہیں یہ، قرونِ اولیٰ میں، خیر القرون میں اور اس کے بعد کبھی کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی ہے اس موقف کی، اس کو تین طلاق کو تین طلاق مانا ہے، تین طلاق کو ایک طلاق نہیں مانا۔ جو جن روایات سے لیا جاتا ہے وہ بھی روایت صحیح نہیں ہے اس لحاظ سے اور صحیح روایات سے یہی ملتا ہے اور اسی لیے جمہور پہ، ان اہل الحدیثوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جمہور کا اس پر اتفاق ہے کہ تین طلاق ایک ساتھ دی گئی تین طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
انہوں نے جو سہارا بنایا ابن تیمیہ سب سے پہلا شخص ان کے خیال میں، جس نے اس بات کو کہا اسی کا سہارا لیتے ہیں یہ، باقی بعد میں اس کو اپنے ایک موقف کو اختیار کرنے کے بعد جیسے، جیسے دوسرے فرقے والے لوگ اپنے کفر و شرک کو، ایک کفر و شرک کا عقیدہ بناتے ہیں، مردے کو زندہ کرتے ہیں، پھر اس کے بعد جھوٹی گھڑی ہوئی حدیثیں اس کے لیے لاتے ہیں اور قرآن اور صحیح حدیث کی ایسی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہی انداز ان لوگوں نے اختیار کیا ہے۔ ایک بے بنیاد چیز پر انہوں نے بنیاد کھڑی کر لی ہے اور اس کے بعد احادیث سے یہ چیز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ بات صحیح نہیں ہے۔
جو ایسے واقعے ملتے ہیں جیسے سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہوں نے آ کے نبی علیہ السلام سے کہا کہ میں نے تین طلاقیں دے دیں لیکن میری نیت ایک طلاق کی تھی۔ تو آپ نے ان سے کہہ دیا کہ ٹھیک ہے تم رجوع کر لو۔ نیت ایک طلاق کی تھی، اس لیے آپ نے رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔ اسی طرح رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے، یہ ابو داؤد، ترمذی، نسائی وغیرہ کی روایت ہے اور اس کو صحیح مانا گیا ہے کہ وہ آئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں لیکن میری نیت ایک طلاق کی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا قسم کھاؤ، انہوں نے قسم کھائی تو اس کے بعد آپ نے رجوع کرنے کی اجازت دے دی، اگر تین طلاق ایک طلاق ہوتی تو قسم کھلانے کی ضرورت