:سوال
قرآن و حدیث کے حوالے سے بتائیں کہ دو درود اور سلام کیا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
یہ صلاۃ و سلام ہے جس کو اردو اور زبانوں میں درود اور سلام کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اور حدیث میں اس کو صلاۃ کہا ہے۔ آپ دیکھیں گے احادیث کے اندر کہ جو میں نے ابھی بتایا کہ باب باندھے ہیں انہوں نے صلاۃ کے لیے “الدعا فی الصلاۃ والذکر بعد الصلاۃ”، اسی طرح “الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی التشہد” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تشہد میں صلاۃ پڑھنا، درود پڑھنا۔ تو یہ سلام ہم پڑھتے ہیں “السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ”۔
پھر جب سورۂ احزاب کی آیات نازل ہوئیں کہ “اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ؕ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا”۔ اللہ اور اس کے فرشتے نبی نبی پر صلاۃ سلام بھیجتے ہیں، صلاۃ و سلام بھیجتے ہیں، اللہ اور اس کے فرشتے۔ تو اے ایمان والو! تم بھی کثرت سے سلام صلاۃ و سلام بھیجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نبی پر۔ تو اللہ کا سلام بھیجنا جو ہے صلاۃ بھیجنا، یہ رحمت نازل فرمانا ہے۔ اللہ کا صلاۃ بھیجنا اپنے نبی پر رحمت فرمانا ہے، جیسے ہم دعا کرتے ہیں “اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد” اے اللہ! صلاۃ بھیج یعنی رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، رحمت فرما۔ تو ہم یہ جو صلاۃ و سلام بھیجتے ہیں، یہ دراصل دعائیہ الفاظ ہیں، دعا بھیجتے ہیں۔ اللہ کو اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور آپ کی آل کے لیے۔ آل میں ایمان والے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔
اور اس کے ساتھ ساتھ کہتے ہیں “کَمَا صَلَّيْتَ”، “اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰۤی اِبْرَاھِيْمَ وَعَلٰۤی اٰلِ اِبْرَاھِيْمَ”۔ اے اللہ! صلاۃ بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر جیسے تو نے صلاۃ بھیجی تھی ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر۔ تو یہ صلاۃ بھیجنا جو ہے رحمت فرمانا ہے۔ دوسری جگہ اسی سورہ میں، سورہ احزاب میں فرمایا ایمان والوں کو مخاطب کر کے کہ خوب صبح شام اللہ کی اللہ کی “يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ”۔ وہ تمہارا رب اللہ تعالیٰ جو تم پر صلاۃ بھیجتا ہے، “هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ” اور اس کے فرشتے بھی صلاۃ بھیجتے ہیں تم پر۔ تو فرشتے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے، فرشتے اللہ سے دعا کرتے ہیں رحمت کی کہ اپنے مومن بندوں پر رحمت فرما۔ سورہ مومن کی آپ نے تلاوت کی ہوگی، اس کے پہلے رکوع میں یہی ہے کہ اللہ کے مقربین فرشتے بھی ایمان والوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔
تو یہ صلاۃ و سلام بھیجنا یہ ہے اور صلاۃ بھیجنا چاہیے، یہ نبی علیہ السلام سے جتنا زیادہ، ایک تو ہم صلاۃ کے اندر پڑھتے ہیں، یہ تشہد میں التحیات میں سلام پڑھتے ہیں اور التحیات کے بعد جب ہم دعائیں مانگتے ہیں تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں، کیونکہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ زیادہ دعا قبول کرتا ہے جب ہم پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صلاۃ و سلام کر لیتے ہیں تو پھر اس کے بعد اپنے لیے دعائیں کرتے ہیں، جیسا میں نے ابھی عرض کیا، صلاۃ کے اندر ہی دعائیں ہوتی ہیں سلام سے پہلے۔ تو اللہ تعالیٰ دعائیں قبول کرتا ہے۔ تو یہ جو ہے، یہ درود ہے، اس کو درود کہا گیا ہے، درود کہتے ہیں کہنے لگے ہیں۔ کیوں اس کو کہنے لگے ہیں، یہ میں نہیں کہہ سکتا۔ بہرحال صلاۃ و سلام ہے یہ۔ صلاۃ، یہ صلاۃ کے الفاظ رحمت کی دعا اور سلام، سلامتی کے الفاظ، “السلام علیک ایھا النبی”، “السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ والسلام علینا” ہمارے اوپر “وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ”۔ اپنے لیے بھی اللہ سے دعا کرتے ہیں، نبی علیہ السلام کے لیے بھی سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ تو اس میں ہم نبی علیہ السلام کی خدمت میں کچھ نہیں بھیجتے۔ نبی علیہ السلام تو جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین مقام میں ہیں۔ اس قبر میں تو آپ کے بے، بے روح جسم کو رکھا گیا ہے، یہ بے روح رہے گا۔ اور آپ کا مقام آپ کو دکھا دیا گیا کہ آپ جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین مقام میں اللہ کے عرش کے نیچے، وہ آپ کا مقام ہے جو آپ کو دکھا دیا گیا ہے زندگی کے اندر۔ فرشتوں نے، جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام آپ کو لے گئے تھے اور وہ مقام دکھا دیا تھا آپ کو۔