:سوال
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں آنے کے بارے میں وضاحت کریں کہ آتے ہیں یا نہیں؟ یا کوئی رشتہ دار وغیرہ آ سکتے ہیں نہیں؟
جواب از محمد حنیف صاحبؒ
خواب سونے والا دیکھتا ہے۔ کوئی مرا ہوا آدمی یا زندہ آدمی کسی کے خواب میں نہیں آ سکتا۔ اللہ نے یہ اختیار کسی کو نہیں دیا۔خواب دیکھتا ہے جس نے اپنی بیداری میں، جاگتے ہوئے کسی کو دیکھا ہے، جو چیزیں دیکھی ہیں۔ کچھ چیزیں اس کے شعور میں ہوتی ہیں، ان کے بارے میں وہ اپنی رائے قائم کرتا ہے، کچھ چیزیں اس کے لاشعور میں ہوتی ہیں، وہ خواب میں آتی ہیں، باقی کیا نظام ہے، اصل اللہ بہتر جانتا ہے۔ یہ سب قیاسات ہیں، جو نفسیات ایک مضمون ہے کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے، اس کے لحاظ سے یہی ہے کہ جو چیزیں لاشعور میں یا تحت الشعور میں رقم ہو جاتی ہیں، وہ انسان کے خواب میں آ جاتی ہیں۔ اس وقت انسان کا شعور جو ہے وہ سو جاتا ہے، لاشعور بیدار ہو جاتا ہے۔ یہی کہتے ہیں نفسیات والے۔
باقی یہ کہ حدیث جو ہے خواب کے بارے میں، وہ بخاری کی روایت، اس میں یہی ہے کہ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، ‘جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھ ہی کو دیکھا’، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي ، (صحیح بخاری:جلد اول:علم کا بیان :حدیث نمبر ۱۱۰)’اس لیے کہ شیطان میرے خواب میں میرے۔۔۔میری تمثیل بنا کر، میری شکل بنا کر نہیں آ سکتا۔ یہ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ ابن سیرین جو تابعی ہیں، جلیل القدر تابعی ہیں اس کے حدیث میں راوی، وہ کہتے ہیں کہ جس نے نبی علیہ السلام کو بیداری میں دیکھا، یہ مراد ہے اس سے۔ یہ نہیں ہے کہ بعد کے لوگ دیکھیں اس کو، جنہوں نے دیکھا ہی نہیں ہے، وہ کیسے پہچانیں گے؟ تو اس سے یہی مراد ہے۔ بس اتنا ہی رکھنا چاہیے، آج کل جو ایک طوفان اٹھایا ہوا ہے، ہر ایک کے خواب میں آتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
یوسف بن نوری صاحب کے والد صاحب زکریا کے خواب میں سو دفعہ آ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ بلی مار دی، تو نبی علیہ السلام علم غیب رکھتے ہیں ان کو معلوم ہو گیا۔ کسی کو پانچ روپے قرضہ نہیں دیا، تو معلوم ہو گیا۔ بیمار ہو گئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں نہیں، جاگتے ہوئے آنے لگے زکریا کی خدمت کرنے کے لیے! یہ انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے تو یہ سارے جھوٹ کے پلندے ہیں یہ باتیں، جھوٹ بولنے میں یہ لوگ ماہر ہوتے ہیں، ان کا دین کا اسی سے اندازہ کیا جاتا ہے کہ جھوٹ کے اوپر ان کا سارا دین جو ہے وہ مبنی ہے۔
تو اسی طرح پنج پیری نے ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی پوری کتاب لکھ ڈالی اس کے، اس کے بارے میں۔ تو یہ لوگ اس قسم کے… تبلیغی جماعت زکریا والوں نے تو خواب کے اوپر پوری، سارے فضائل بھرے ہوئے ہیں خوابوں سے۔ اور خواب میں بھی آتے ہیں نبی علیہ السلام، بیداری میں بھی آتے ہیں۔ وہ پیر جس کی زیارت کے لیے وہ گئے تھے، وہ بھی خواب میں آ گیا، اپنے بیٹے کے خواب میں چلا گیا، وہ عالم الغیب بھی ہے وہ پیر قبر میں دفن! اس کو معلوم ہے کہ یہ زائرین آ گئے ہیں یہاں، تو اس لیے ان کے خواب میں آ گیا۔ بیٹا کہاں ہے، وہاں اس کے خواب میں چلا گیا۔
تو یہ ان لوگوں کا یہ دین ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات میں، اس کی صفات میں، اس کے اختیارات میں، تصرفات میں، سب نے اس نے، اس… نبی کو بھی شریک کر لیا ہے اور پیروں کو بھی شریک کر لیا ہے۔ وہ عالم الغیب بھی ہوتے ہیں، جب زندہ ہوتے ہیں جب بھی عالم الغیب ہوتے ہیں۔ ملیر میں بیٹھا ہوا پیر معلوم ہے اس کو کہ نبی علیہ السلام اس کے مرید سے کیا کہہ رہے ہیں۔ نبی علیہ السلام قبر میں زندہ بھی ہیں، مرید جاتا ہے سلام دیتا ہے تو جواب مل جاتا ہے، پیر صاحب کا سلام پہنچاتا ہے ان کا بھی جواب مل جاتا ہے، اور جواب ملتا ہے کہ ‘اپنے بدعتی پیر کو میرا سلام کہنا’، یہ الفاظ بھی یہاں پیر صاحب کو ملیر میں بیٹھے ہوئے معلوم ہو جاتے ہیں۔ جب مرید آگے کہتا ہے کہ ‘آپ… آپ کا سلام پہنچایا، جواب مل گیا’، کہا ‘نہیں، الفاظ کہو وہ’۔ اب مرید سمجھ گیا کہ ان کو معلوم ہے کہ الفاظ کہے، چنانچہ وہ الفاظ بیان کرتا ہے۔ تو یہ انہوں نے کھیل کھیلا ہے اللہ کے دین کے نام میں۔ اسی کے، اسی سے دکانداری ان کی چلتی ہے، اسی کھیل سے، اسی فریب سے، اور انہوں نے خوب کی ہے یہ دکانداری، لوگوں کو خوب بیوقوف بنایا ہے۔
تو باقی اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ کسی کے خواب میں آئیں، اور اگر آتے تو صحابہ کرام کے خواب میں آتے، اپنی بیویوں، امہات المؤمنین کے خواب میں آتے، نہیں آئے خواب میں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ورنہ نہیں نکل سکتی تھیں جنگِ جمل کے لیے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خواب میں نہیں آئے ورنہ اتنا دور جنگوں میں کیوں گزرتا؟ محدثین نے اتنے طویل طویل سفر کیوں کیے؟ نبی علیہ السلام خواب میں آتے اور بتا دیتے کہ یہ حدیث صحیح ہے، اس حدیث میں یہ راوی کمزور ہے، لکھ دو یہ ہماری طرف سے، پھر تو آسان ہو جاتا سارا کام، پھر اتنی بات کیوں کرنی، اتنا سب محنت کیوں کرنی پڑتی ان کو؟ تو یہ سب جھوٹی باتیں اس طرح سے ان لوگوں نے کی ہیں اپنے کھانے کمانے کے لیے۔