:سوال
اگر کوئی مشرک قریبی رشتہ دار مومن قریبی رشتہ دار سے، مشرک قریبی رشتہ دار، مومن قریبی رشتہ دار سے کہے کہ میں ایمان لاتا ہوں، اپنی بیٹی کا رشتہ مجھے دے دیا جائے، تو کیا اس قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
نہیں! پہلے وہ ایمان لائے، اپنے ایمان کو ثابت کر دے، جب دل مطمئن ہو جائے گا تو اس کے بعد، دوسرے یہ کہ اس کا بیٹا بھی مومن ہونا چاہیے جس کو رشتہ دیا جائے، رشتہ جس کو دیا جا رہا ہے وہ بھی مومن ہونا چاہیے، والدین مومن ہوں تو بہت ہی اچھی بات ہے لیکن بیٹا جس کو رشتہ دیا جائے وہ مومن ہونا چاہیے، اصل بات جو ہے وہ یہ ہے۔
جب تک کہ وہ پہلے سے ایمان والا نہ ہو تو اس کو نہ دیا جائے، یہ نہیں ہے کہ شادی کے وقت وہ ایمان کا اقرار کرے، ایسا ایمان کا اقرار قابلِ اعتبار نہیں ہوتا ہے، بہت لوگ بڑے شوق سے آتے ہیں اور اعلان کراتے ہیں مجمعے میں کہ دیکھیے صاحب یہ ہمارا داماد بن رہا ہے اور یہ ایمان کا اقرار کر رہا ہے، تو یہ ایمان کے اقرار جو ہیں ہم نے پائیدار نہیں دیکھے ہیں، وہ اس دن اقرار کرتا ہے بڑے ذوق شوق کے ساتھ اور اس کے بعد ایک آدھ دفعہ جمعے میں نظر آتا ہے پھر نظر ہی نہیں آتا غائب ہو جاتا ہے۔