:سوال
مشرک جب اذان دیتا ہے تو اس کی، اس کو دہرانا(کیسا ہے؟)
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
نہیں ہم نہیں دہراتے۔ ہم اس کی اذان کو اذان تسلیم نہیں کرتے۔ اس کے ایمان کو ایمان تسلیم نہ، اس پہ صلاۃ فرض ہے نہ اس پر اذان ہے۔ نہ اس کی اذان اذان ہے، نہ اس کو اجر ملے گا، نہ ہم اس کو دہرائیں گے۔ ہم تو انتظار کرتے رہتے ہیں کہ ہماری مومنوں کی مسجد سے اذان کی آواز آئے تو ہم اس میں دہرائیں بھی اور اس پر دعا بھی پڑھیں۔
اور جب بھی آپ اذان سنیں، اذان کے الفاظ کو دہرائیں، تو ان شاءاللہ اذان دینے والے کے برابر اجر بھی آپ کو ملے گا۔ اور اذان ختم ہونے کے بعد آپ اللہم صل علی محمد اللہم بارک علی محمد یہ بھی پڑھ لیں صلاۃ و سلام، اور اس کے بعد پھر وہ دعائے وسیلہ اللہم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلاۃ القائمۃ آت محمدن الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاماً محموداً یہ دعا پڑھا کریں۔ پہلے درود پڑھ لیں پھر اس کے بعد یہ دعا پڑھ لیں، تو اس کا اجر زیادہ ہے۔ خالی دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے، حدیث سے وہ بھی ثابت ہے، مگر درود کے ساتھ پڑھیں گے تو زیادہ اجر ملے گا۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے ایک دفعہ مجھ پر صلاۃ پڑھی، اللہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ رحمتیں بھیجتا ہے، صلاۃ بھیجتا ہے، تو یہ جو ہے اس میں زیادہ فضیلت ہے، اس لیے جب بھی موقع ہو تو یہ اس کے ساتھ ہی کرنا چاہیے۔