:سوال
مومن، متقی، ایماندار اور پرہیزگار کی صفات بتائیں کہ کن صفات کے حامل شخص کو مومن اور کن صفات کے حامل کو متقی، ایماندار اور پرہیزگار سمجھا جائے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ صفات بیان کر دی ہیں۔ ایماندار وہ ہیں جن کا ایمان شرک سے پاک ہو۔ متقی، پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے، آخرت کی فکر رکھنے والے، حلال کے اندر گزارا کرنے والے، حرام سے بچنے والے، صبر کرنے والے، اللہ سے معافی مانگنے والے اپنے گناہوں کی اور مومنوں کی جماعت کے ساتھ چلنے والے، فرائض کی پابندی، فرائض کی پابندی کرنے والے، نوافل کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے، یہی لوگ ہیں جو متقی پرہیزگار ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تمام حدود کو اور قیود کو اپنے اور اپنے گھر والوں پر نافذ کرنے کی کوشش کرنے والے، یہی متقی، ایماندار اور پرہیزگار کی صفات ہیں قرآن میں، ان کو جگہ جگہ بیان کیا ہے۔
سورہ مومنون میں بتایا گیا ہے کہ ان کی صلاۃ میں خشوع و خضوع ہوتا ہے، رجوع الی اللہ ہوتا ہے، قلبِ سلیم کے ساتھ پوری رجوع کے ساتھ یہ پڑھتے ہیں، انکساری اور عاجزی کے ساتھ پوری توجہ کے ساتھ اور یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ منافقوں کی جو صفات ہوتی ہیں کہ جب بات کریں جھوٹ بولیں، جب وعدہ کریں وعدہ خلافی کریں اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت کریں، جھگڑا ہو جائے تو اس سے گالم گلوچ، بدکلامی پر اتر آئیں، یہ ان تمام چیزوں سے دور ہوتے ہیں، اپنی صلاۃ کی حفاظت کرتے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ متقی پرہیزگار اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے شب و روز اللہ کے بارگاہ میں قیام، رکوع اور سجود کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ رات میں بھی اٹھتے ہیں بارگاہِ الٰہی میں حاضری دیتے ہیں اور صبح ہی صبح اپنے فرض کی نماز میں بھی داخل ہوتے ہیں، توبہ استغفار کرنے والے ہوتے ہیں۔
یہ چند صفات اللہ تعالیٰ نے سورہ آلِ عمران میں بھی بیان کر دی ہیں: الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے یہ صبر کرنے والے ہوتے ہیں، سچے ہوتے ہیں، جھوٹ کا ساتھ نہیں دیتے، جھوٹ نہیں بولتے، راست باز ہوتے ہیں۔ یہ پوری یکسوئی کے ساتھ، پوری یکسوئی کے ساتھ توجہ کے ساتھ، عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ کی بندگی کرنے والے، اپنی زندگی گزارنے والے۔ جو کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو حلال کمائی سے دیتا ہے، اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اوقاتِ صبح گاہی میں اللہ سے استغفار، توبہ استغفار کرتے ہیں۔
دوسری جگہ فرمایا: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ۔ ایمان والے تو بس وہ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہو تو ان کے دلوں میں رقت طاری ہو جائے، ان کے دل نرم ہو جائیں، اللہ کی بات کو غور سے سنیں، اپنی برائیوں اور کمزوریوں کا خیال کریں، اس پر نظر رکھیں، اپنی اصلاح کی کوشش کریں، اپنے اصلاح کا عزم کریں یہ اور جب اللہ کی آیات کی تلاوت ہو تو ان کے ایمان کے اندر اور نکھار پیدا ہو جائے، بہتری آ جائے، زیادتی پیدا ہو جائے۔ یہ اللہ کے اوپر توکل کرنے والے ہوتے ہیں اور اسی پہ بھروسا کرتے ہوتے ہیں اپنی مشکل اور مصیبت میں۔ ادھر ادھر کے آستانے نہیں جھانکتے، ادھر ادھر بغلیں نہیں جھانکتے، اللہ ہی سے توکل کرتے ہیں اور اسی کے اوپر بھروسا کرتے ہیں۔ یہ تمام ان کی صفات جگہ جگہ بیان کی ہیں۔ اللہ نے دیا ہے، اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ نے کم دیا ہے تو صبر اور شکر کرتے رہتے ہیں، اس طرح زندگی گزارتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ان اوصاف کا حامل بنائے، پروردگارِ عالم کو ایسے ہی لوگ مطلوب ہیں۔ یہ مجاہد ہوتے ہیں نفس کے خلاف جہاد کرنے والے، حق کے خلاف باطل کے پرستار، حق کا راستہ روکنے والے، ان کے خلاف جہاد کرنے والے۔