سوال یہ ہے کہ مرنے کے بعد مرنے والے کو جنت یا جہنم کا کون سا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے؟

:سوال

قرآن کریم میں مرنے کے بعد یعنی فوراً بعد نیک کو، نیک آدمی کو جنت اور بد آدمی کو جہنم میں جانے کی خبر دیتا ہے۔ کیا یہ جنت اور جہنم برزخ میں، برزخ ہیں یا برزخی قبر میں موجود ہیں؟ یا اگر مرنے والا جنت یا جہنم میں ہے، تو اس کو جنت یا جہنم کا کون سا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے؟ جبکہ وہ پہلے ہی جنت یا جہنم میں موجود ہے۔

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

​یہ… قیامت کے فیصلے سے پہلے پہلے جو معاملہ ہے جنت کی راحتوں کا یا جہنم کے عذاب کا، یہ… حل… ہلکا ہے، خفیف ہے اور عارضی ہے۔ دائمی اس کے بعد ہوگا آخری فیصلے کے بعد۔
​قرآن یہی بتاتا ہے شہید کے لیے سورہ یاسین میں شہید کو، اس کے قوم نے، قوم نے شہید کیا اور اللہ کی طرف سے اس کو حکم مل گیا قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ جنت میں داخل ہو جاؤ، تو یہ جنت کا ہونا جو ہے یہ اپنی جگہ بالکل واضح ہے۔
​اسی طرح جو سورہ حٰم السجدہ کے اندر بتایا جا رہا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا، وہاں بھی یہی بات سامنے آ رہی ہے کہ جو اللہ کے بندے ایمان کے ساتھ، استقامت کے ساتھ، زندگی کے اپنے آخری دن گزارنے کے بعد موت سے ہمکنار ہوتے ہیں، تو فرشتے آ کر ان کا استقبال یہی کرتے ہیں اور ان کو جنت کی راحتوں کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ تو یہ بات قرآن اور حدیث سے بالکل ہی واضح ہے کہ وہ جنت میں فوراً چلے جاتے ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں بھی جنت کے مناظر دکھائے گئے، جنتیوں کے۔ تو یہ قیامت سے پہلے پہلے کا معاملہ ہے۔
​یہ روح جو جسم سے نکل جاتی ہے، وہ جنت کی راحتوں میں ہوتی ہے یا کافر و مشرک اور فاسق و فاجر کی، جہنم کے عذاب میں۔ جہنم کے عذاب کے بارے میں بھی فرعون اور آلِ فرعون کے لیے سورہ مومن میں ذکر ہے اور وہاں زیادہ وضاحت کے ساتھ یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ النَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا ۖ وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ ۗ اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ۔ کہ آلِ فرعون، فرعون اور آلِ فرعون، صبح شام جہنم کے عذاب پہ پیش کیے جاتے ہیں، یعنی عذاب ہو رہا ہے ان کو۔ محاورے کا انداز ہے، عذاب ہو رہا ہے ان کو، اور ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی، یہ عذاب ابھی خفیف ہے، ہلکا ہے۔ جب قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ ان کو شدید عذاب میں ڈال دو، اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ شدید عذاب میں ڈال دو۔
​تو یہ چیز واضح ہے، اسی طرح جنتیوں کو دکھایا جاتا ہے ان کا مقام کہ اللہ نے ایمان کی وجہ سے، شرک سے پاک ایمان کی وجہ سے، عملِ صالح کی وجہ سے تمہیں اللہ نے جنت کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ورنہ تمہارا ٹھکانا وہاں جہنم کے… کے عذاب میں ہوتا، وہ ٹھکانا ہوتا۔ اور ابھی جو راحت ہے تمہیں، قیامت کے فیصلے کے بعد اس سے زیادہ راحتوں والی جنتیں ملیں گی 

آڈیو جواب ملاحظہ ہوں

تلاش کریں