لیلۃ القدر میں قرآن کہاں اتارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یا لوحِ محفوظ پر؟

:سوال

لیلۃ القدر میں قرآن کہاں اتارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یا لوحِ محفوظ پر؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

 اس سے کوئی چیز ایسی حتمی طور سے نہیں کہی جاتی، ثابت نہیں ہے، صرف نزولِ قرآن کا ذکر ملتا ہے اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔ اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ، شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ۔ اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ۔ تو اس رات کے اندر، لیلۃ المبارکہ، لیلۃ القدر ایک ہی رات ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا ہے۔ اب یہ پہلی وحی اس سے مراد ہے، یا لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اس کا نزول مراد ہے جہاں سے جبرائیل علیہ السلام لے کے آتےـ لاتے رہے تھوڑا تھوڑا وحی کے کے ذریعے سے؟ تو یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ دونوں باتیں محدثین نےـ مفسرین نے نقل کی ہیں لیکن حدیث سے کوئی اس کے بارے میں حتمی چیز میری نظر سے نہیں گزری، اگر کوئی کبھی آپ کی نظر سے گزرے تو بتائیے گا۔ اس لیے دونوں دونوں باتیں ہیں، جو بھی صحیح ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔

تلاش کریں