:سوال
آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس میں ٹی وی بھی شامل ہے جس پر ایجوکیشن پروگرام بھی چلتے ہیں اور قرآن کی تلاوت بھی، جس سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے، کیا ٹی وی دیکھا جا سکتا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
دیکھیں آپ نے دو تین چیزیں بتائیں: تلاوتِ قرآن، ایجوکیشن پروگرام ٹی وی کے ذریعے جہاں تک کہ تلاوت کا معاملہ ہے تو یہ تو آپ کو کیسٹس، ہر قسم کے کیسٹس مل جائیں گے، تو ٹی وی کے بغیر آپ کیسٹس ٹیپ ریکارڈ رہا پہ آپ کیسٹس آپ اپنے سن سکتے ہیں۔ تو یہ تو مسئلہ اس سے حل ہو سکتا ہے، اس کے لیے ٹی وی کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
دوسرے جو ایجوکیشن پروگرام ہوتے ہیں، وہ آپ اگر اس کی کتابیں وغیرہ کا مطالعہ کر لیں، تو اس سے بھی کافی کام چل جاتا ہے، لیکن اس ایجوکیشن پروگرام کے ساتھ ساتھ اس میں اور جو لغویات ساتھ ساتھ ہوتی ہیں، فحاشی ہوتی ہے، عریاں تصاویر ہوتی ہیں، غیر محرموں کی تصاویر ہوتی ہیں، ان پروگراموں کے ساتھ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک پروگرام چل رہا ہے تو دوسرا پروگرام اس کے ساتھ نہ ہو، وہ درمیان میں آتے رہتے ہیں، ایڈ کے طور پر، اشتہارات کے طور پر، پبلسٹی کے طور پر ایسی چیزیں آتی رہتی ہیں، تو وہ برابر اللہ کے دین کا مذاق اڑایا جاتا ہے ٹی وی پر، تو یہ تو بہت ہی زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے۔
آپ گھر میں رکھتے ہوئے بہت مشکل سے آپ ان چیزوں سے اپنے گھر والوں کو آپ بچا سکتے ہیں۔ تو یہ ایک ایسی ماڈرن چیز ہے، فیشن کہ جہاں اس میں فائدے ہیں، وہاں اس میں نقصانات بھی بہت ہیں اور یہ نقصانات اگر مخرب الاخلاق بن جائیں، میں آپ سے عرض کروں مجھے یاد ہے وہ دور جب یہ ٹیلی ویژن شروع ہوا تھا، یورپ، امریکہ میں، دوسری جگہ، تو اس کے شروع ہونے کے بعد یعنی آج سے تقریباً 45، 50 سال پرانی میں بات آپ کو بتا رہا ہوں، 45 سال پرانی تقریباً، شاید میری یادداشت اگر صحیح بتا رہی ہے، تو اس زمانے میں بھی میں نے اخباروں میں دیکھا تھا کہ یورپ، امریکہ میں جہاں ٹی وی شروع ہوا اور لوگ اس کے اوپر دوڑے، تو وہ ان کی صحتیں بھی خراب ہونے لگیں، ان کے بچوں کے کردار بھی بگڑنا شروع ہوئے، ان کی تعلیم سے دلچسپیاں بھی ختم ہو گئیں، جب ایسی چیزیں لہو و لعب جس کو کہا جاتا ہے، جو انسان کو، بچوں کو اپنے فرائضِ منصبی سے دور کر دے تو وہ چیز جو ہے فائدہ مند نہیں ہوتی۔
بظاہر اس میں دلچسپی کی چیزیں نظر آتی ہیں، کچھ ایجوکیٹو، تعلیمی پروگرام بھی ہوتے ہیں، کچھ معلوماتتی پروگرام بھی ہوتے ہیں، لیکن آپ دیکھیں نقصانات کتنے ہوتے ہیں اس میں۔ تو آپ کے اپنے جو نصابی کورس ہے اس کو بھی پڑھنے کو آپ کو موقع نہیں ملتا، اس سے بھی دلچسپی آپ کو نہیں رہتی ہے، تو یہ چیزیں جو ہیں اس کے علاوہ اور بہت سی چیزیں ہیں جیسے آپ کو سائنس کے لیے وہاں یورپ، امریکہ میں تو پلینیٹیریئمز ہوتے ہیں پلینیٹیریئم، جس میں آپ لے جائیں تو اس میں تمام افلاک کی وہ دکھائیں گے، روٹیشن دکھائیں گے، موومنٹ دکھائیں گے، سیارے دکھائیں گے، تو آپ کی آدھی تعلیم افلاک کی، جغرافیے کی، اس پلینیٹیریئم شو سے ہو جائے گی۔ وہاں کوئی عریانی نہیں ہے، کوئی فحاشی نہیں ہے، کوئی ٹی وی والا پروگرام نہیں، وہ دکھائیں وہاں، یہاں بھی ایک پلینیٹیریئم موجود ہے یہاں گلشنِ اقبال میں اس پہ یونیورسٹی روڈ کے اوپر، تو اس قسم کی چیزوں کی طرف شاید ہم کبھی رخ بھی نہ کرتے ہوں، لیکن اس کی طرف ہماری رغبت اتنی زیادہ ہو گئی ہے جو ہمیں بہت زیادہ بگاڑنے والی چیز ہے اور آج آپ دیکھیے اتنی دہشت گردی جو پھیل رہی ہے، جہاں اور دوسرے اسباب ہیں سیاسی اور دوسرے ایسے لوگوں کا اقتدار پہ آنا جو اللہ، اللہ کے اور اللہ کے دین کے دشمن ہیں، اللہ نے عذاب کے طور پر ہمارے اوپر جن کو مسلط کیا ہے، انہوں نے یہ چیزیں بہت زیادہ پھیلائی ہیں اور چھوٹ دی ہے ان چیزوں کو، وہاں بچوں کے اندر اور بڑوں کے اندر یہ دہشت گردی کا جو عنصر آیا ہے، وہ ان چیزوں سے بہت آیا ہے، ٹی وی وغیرہ سے کیونکہ ان کے ہاں تو یہی چیزیں دکھائی جاتی ہیں ٹی وی میں بہت زیادہ، یہ سب قسم کی چیزیں دہشت گردیوں کا۔
تو وہ یہی چیز سیکھتے ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے جن کو پتہ کچھ بھی نہیں ہے، وہ آپس میں جب لڑتے ہیں شریر بچے تو اسی طرح کے انداز اختیار کرتے ہیں جیسے ٹی وی میں دیکھتے ہیں وہ، دیکھا ہے ہم نے، اسی طرح کے وہ اپنے انداز اختیار کرتے ہیں۔ باکسنگ کریں گے، یہ کریں گے، وہ کریں گے، آپس میں ایک دوسرے کو ماریں گے، توڑیں گے، وہ طریقے اختیار کریں گے۔ تو اس میں جہاں تعلیم و تربیت کے اور معلوماتتی پروگرام ہوتے ہیں اور تلاوت ہوتی ہے، تو یہ جو ہے ناگزیر نہیں ہے، اس، اس سے بہتر نعم البدل موجود ہے ٹی وی سے، ان چیزوں کو سکھانے کے لیے۔ اس میں فوائد کم، نقصانات زیادہ ہیں۔
جو اللہ کے بندے، متقی، پرہیزگار، اللہ سے ڈرنے والے اور اپنے آپ کو پاک صاف رکھنے والے، جو تزکیہ نفس پہ زور دیتے ہیں کہ ہمارا نفس شیطانی چیزوں سے پاک ہو، ہمارے بچوں کی تربیت بھی اسی انداز سے ہو، تو وہ ظاہر ہے یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے بچوں کے اخلاق و کردار خراب ہوں، وہ دنیا کی طرف زیادہ دوڑنے والے ہوں، ان کو ان چیزوں سے زیادہ دلچسپی ہو، تو یہ جیسا کہ آپ نے سورہ لقمان کی شروع کی آیات میں پڑھا ہے، ایک طرف تو وہ اللہ کے بندے ہیں جو اللہ کی ہدایت سے فائدہ اٹھانے والے اور اللہ کی رحمت کے حقدار بننے والے، ہدایت کے ساتھ رحمت ہے واپس، لازم و ملزوم، اس سے فائدہ اٹھانے والے اور پھر ایمان کے اور دین کے تقاضے پورے کرنے والے، ان کے لیے فرمایا یہی فلاح پانے والے ہیں۔ یہ دنیا کے اللہ کے بندوں کا ایک گروہ ہے، عباد الرحمن کا۔ دوسرا گروہ ہے: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ}، اللہ کے راستے سے روکنے، گمراہ کرنے، لوگوں کو گمراہ کرنے والے لہو و الحدیث، یہ دوسرے لوگ ہیں جو اس میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ چیزیں پھیلاتے ہیں، اپنا پیسہ اور کاروبار اس کے ذریعے سے کرتے ہیں، یہ چیزیں پھیلاتے ہیں، افسانے ہیں، ناول ہیں، رسالے ہیں اس قسم کے اور عریانی اور فحاشی سے بھرے ہوئے یہ ٹیلی ویژن ہیں، یہ کھیل ہیں، یہ پھیلاتے ہیں، تو بچے اس میں لگ جاتے ہیں اور اس کے بعد ان کی تربیت کرنا ماں باپ کے لیے مشکل ہوتا ہے، تو اس لیے ایسی چیزوں سے بچانا ہی زیادہ بہتر ہے۔ لہو و الحدیث سے اور عباد الرحمن کی صفات میں خاص طور سے اس کا ذکر فرمایا کہ {وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا}، لغو سے گزرتے ہیں یہ تو اس کی طرف ان کی زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی، کرامت سے گزر جایا کرتے ہیں۔
مومنون جن کے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنات الفردوس کا جن کے لیے وعدہ فرمایا، ان کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ}، یہ لغو سے اعراض کرتے ہیں۔
اب آپ ذرا تھوڑا سا اس پہلو پہ غور کیجیے کہ یہ ٹی وی وغیرہ گھر کے اندر ہوتا ہے اور یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، یہ میچ چل رہا ہے، یہ، یہ کون سا ورلڈ کپ یا کون کون سے ہوتے ہیں چیزیں یہ چل رہی ہیں گھر میں، اب بچوں کے سامنے یہ کھلا ہوا ہے تو ادھر حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح ہو رہا ہے اور وہ ادھر مست ہیں اس کے اندر دیکھنے کے لیے، ایسا ان کو زیادہ دلچسپی ہوگی کہ وہ یہ نہیں چاہیں، یہ ان کو پسند نہیں ہوگا اگر ان کو اٹھایا جائے زبردستی وہاں اور والد ان کے اور گھر والے کہیں کہ جاؤ اذان ہو رہی ہے، وہ بمشکل، بالکل بالجبر اور بالکراہ اٹھیں گے وہ، عادلین ناخواستہ۔ تو یہ چیزیں جو ہیں ایسی اللہ کے راستے سے روکنے والی اور گمراہ کرنے والی چیزیں ہیں۔