کیا شیعہ اور مرزائی اہلِ کتاب ہیں؟

:سوال

شیعہ اور مرزائی اہل کتاب ہیں یا نہیں؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

یہ اصل میں ان کے بارے میں تو یہ باتیں سنی گئی ہیں کہ یہ قرآن کے بارے میں بھی ان کو شک ہے کہ یہ  40 پارے قرآن کے تھے،  اصل قرآن، جس کو لے کر ان کا امام غائب جو ہے، سر من رائے میں  روپوش ہو گیا ہے، 4 سال کی عمر میں۔ یہ اس قسم کی شیطانی باتیں اور احمقانہ باتیں ان کے عقیدے کا میں شامل ہیں، تو اس لیے اب یہ اس قرآن کو کیا مانیں گے؟ کیونکہ یہ قرآن تو ان کے عقیدے کو، ہر چیز کو رد کرتا ہے، اس میں تو صحابہ کی منقبت بیان ہوتی ہے، صحابہ میں محبت کا انداز ہوتا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی منقبت آتی ہے، وہ غار کے، کے ساتھی ہیں نبی علیہ السلام کے۔ تو ان کو یہ مقام ہے، تو اس لیے یہ قرآن ان کو پسند نہیں ہے، تو ان کے بارے میں تو یہ کہا جا سکتا ہے، مگر بہرحال پھر کوئی، پھر بھی اہل کتاب کیونکہ ان کی اکثریت جو ہے، وہ یہ کبھی نہیں کہے گی کہ ہم اس قرآن کو نہیں مانتے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے، ایسا نہیں کہتے وہ۔ اس لیے اہل کتاب ان کو مانا جاتا ہے، اور اسی طرح قادیانی جو ہیں، مرزائی، ان کا بھی یہی معاملہ ہے، یہ پورے قرآن کو مانتے ہیں، صرف وہ  جو نبی علیہ السلام کی ختم نبوت کے بارے میں ہے، اس کا انکار کرتے ہیں، تو ایسے  بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث جو ہیں، قرآن کی بے شمار آیات کے انکاری ہیں، پھر ان کو بھی آپ اہل کتاب نہ مانیں؟ اہل کتاب وہ ہوتے ہیں جو قرآن کو اسمانی کتاب، اللہ کی کتاب، نبی پر نازل شدہ مانیں، لیکن اس کی آیات پر ان کا ایمان نہ ہو، وہی اہل کتاب کہلاتے ہیں، یہود و نصاریٰ ایسے ہی تھے، تو اسی طرح یہ بھی اہل کتاب ہیں۔

تلاش کریں