:سوال
یہ جو نمازِ جنازہ میں ثنا پڑھتے ہیں، کیا یہ سنتِ نبوی سے ثابت ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
آں، ثنا پڑھنا تو ثابت ہے۔ بخاری، مسلم کی روایت میں نہیں ہے لیکن ترمذی وغیرہ کی روایت میں ہے ثنا پڑھنا اور ایک کمزور روایت میں یہ ہے “وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ” یہ پڑھنا بھی آتا ہے اس کے، اس کے ساتھ۔ تو یہ ثنا پڑھ لینا اچھا ہے، ویسے یہ ہے کہ سورہ فاتحہ جو ہے، وہ بھی ایک طرح کی ثنا ہے۔ سورہ فاتحہ پڑھنا بھی حدیث سے ثابت ہے، تو دونوں چیزیں ہی پڑھی جائیں۔ ویسے بھی بغیر سورہ فاتحہ کی بھی صلاۃ المیت ادا کی گئی ہے، تو اگر اس طرح ادا کی جائے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں، لیکن یہ کہ اس کی کیونکہ تاکید ہے سورہ فاتحہ کی، ویسے بھی لا صلاۃ الا، “لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب” تو اس لحاظ سے بھی وہ اس میں صلاۃ میں، یہ صلاۃ المیت بھی آ جاتی ہے، تو یہ اس میں کیونکہ عموم ہے، “لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب” عموم ہے اس میں، یعنی تمام صلاۃ کے لیے یہ اس طرح سے ہے، تو اس لیے اس میں صلاۃ یہ، سورہ فاتحہ پڑھ لی جائے، ثنا جو ہے وہ تو پڑھنا ضروری ہے اس سے پہلے۔