:سوال
کیا مشرک رشتہ داروں سے مکمل طور پر علیحدگی کا حکم ہے؟ اگر وہ بیمار ہوں تو کیا ان کی تیمار داری کی جا سکتی ہے یا انہیں دیکھنے ہسپتال جایا جا سکتا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
جی ہاں بالکل، مشرک رشتہ داروں کی صلہ رحمی کے حقوق ادا ہوتے رہنے چاہئیں۔ ان میں کوئی اگر مسکین ہو، محتاج ہو، ضرورت مند ہو تو اس کی ضرورتیں بھی ہم پوری کریں، ان سے تعلق ملنا جلنا بھی رکھیں۔ ان سے ملنا جلنا رکھیں اور جب بھی موقع ہو ہمیں اچھی طرح سے ہمدردی کے ساتھ، ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ان کو دعوت بھی دیں۔ بس اس بات، اس معاملے میں ہمارے اندر سختی اور عزم ہونا چاہیے کہ ان کی کسی غلط بات کی تائید نہ کریں اور کسی غلط رسم میں شرکت نہ کریں۔ ان کے شرک سے ہمیشہ بیزاری کا اظہار کریں تاکہ برابر ان کے عقیدے، ایمان و عقیدے پر، غلط نظریے پر چوٹ پڑتی رہے اور ان کو احساس دلانے کی کوشش کی جاتی رہے برابر۔ تو ہمارے ان سے ملنے کا کہ یہی ایک مقصد ہونا چاہیے اور اللہ نے کیونکہ صلہ رحمی کا حکم دیا ہے، اس لیے صلہ رحمی کو قطع نہیں کرنا چاہیے، اس کی بہت سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔
دوسرے یہ کہ اگر کوئی ہمارا رشتہ دار بھی نہیں ہے تو ہم اس کی بھی مزاج پرسی کے لیے، بیمار کی مزاج پرسی کے لیے اگر وہ مشرک ہے تو بھی ہمیں جانا چاہیے۔ اور اس وقت بھی اس کو تھوڑی سی ایمان کی دعوت دینا چاہیے، بیماری کی حالت میں ذرا دل اس بات کے لیے تیار ہوتا ہے کہ بات کو سنے اور آخرت کے معاملے میں ان کو ذرا احساس ہوتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ضرور جانا چاہیے۔ نبی علیہ السلام نے یہودی بچے کو جا کے دعوت دی اور وہ ایمان لے آیا، اس کے باپ نے اس کو کہا ہے کہ ابوالقاسم کی بات مانو۔ تو اس نے دعوت کو قبول کر لیا ہے، جب اس کی وفات ہوئی، نبی علیہ السلام وہاں سے نکلے تو کہا اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے ایک جان جہنم سے بچا لی۔ تو اس لیے ہمیں اس موقع سے تو فائدہ اٹھانا چاہیے، تیمار داری کی بھی اجازت ہے، تیمار داری بھی کی جا سکتی ہے۔
اگر ان کے گھر کوئی خوشی کی تقریب جس میں کوئی بھی غیر شرعی کام نہ ہو رہا ہو تو کیا اس میں شرکت کی جا سکتی ہے؟ غیر شرعی کام سے مراد یہ ہے اگر کوئی بدعت وغیرہ نہیں ہو رہی ہے، کوئی رسم نہیں ہو رہی ہے اور وہ غیر شرعی میں ظاہر ہے فوٹو گرافی وغیرہ یہ سب آپ نے اس کا اندازہ کر لیا ہوگا، اس میں سب کو شامل کر لیا ہوگا۔ تو اگر ایسا کوئی کام نہیں ہو رہا ہے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو تو آپ ان کی دعوت میں شرکت کر سکتے ہیں، ولیمے وغیرہ کی دعوت میں۔ باقی جو شادی کی اور کوئی، شادی کی اور کسی تقریب، کوئی تقریب ہو تو وہ رسم ہوتی ہے محض، اس میں شرکت نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ جائیں بھی وہاں تو اس کے خلاف آواز اٹھائیں، اس کے خلاف ان کو سمجھائیں، تو جائیں ورنہ نہ جائیں۔