کیا مرتد کی عیادت کی جا سکتی ہے؟

:سوال

مرتد کے بارے میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا مرتد کی عیادت کی جاتی ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

مرتد کے لیے تو ایک ہی بات آتی ہے، اس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟ اس کو قتل کرنا چاہیئے۔ احادیث میں آپ دیکھئے پورا اس کا باب دیکھئے گا، تو مرتدین کے بارے میں، ارتداد کے بارے میں تو آپ کو یہی ملے گا بخاری میں، مسلم میں اور دوسرے سنن وغیرہ کی روایات میں کہ مرتدوں کو قتل کیا گیا ہے۔ اور ان کو قتل کبھی بعض ایسے بھی مرتد گزرے ہیں جنہوں نے کچھ ایمان کا اقرار کرنے کے بعد، نبی علیہ السلام نے تو ان کے علاج وغیرہ کا بندوبست کیا، تو ان ظالموں نے شفایاب ہونے کے بعد اونٹ وغیرہ چرائے اور اپنے جو نگرانی کرنے والا تھا اس کو قتل بھی کر دیا۔ تو پھر ان کو ذرا زیادہ شدید سزا دی، ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیری گئی تھیں۔ یہ ان کو عذاب دیے گئے تھے ایسا سخت اور پھر قتل بھی کر دیا گیا تھا ان کو۔

​تو مرتدوں کی تو یہ سزا ہوتی ہے، تو ان کے لیے کوئی ہمدردی کا جذبہ نہیں ہوتا، کسی قسم کا ان کے لیے ترحم ہوتا ہی نہیں ہے، چاہے وہ خونی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، بالکل کسی قسم کا کوئی نہیں، ان کے ساتھ ذرا بھی نرمی کا اور نرم گوشے کا نہیں کوئی امکان۔ دل میں کوئی ذرا بھی نرم گوشے کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہیے ان کے بارے میں۔ اور ان کے بارے میں ان کی کسی بھی اچھی اچھائیوں کو یاد نہیں کرنا چاہیے، اچھائیاں ابلیس کے اندر بھی تھیں اس لیے تو وہ مقام ملا ہوا تھا، لیکن وہ ساری اچھائیاں اس کے کبر نے ان کا سب کا پانی پھیر دیا۔ کبر نے، نفس پرستی نے، انا پرستی نے سب پہ پانی پھیر دیا۔ تو ساری اچھائیاں جب اللہ کی نافرمانی کرنے والا بن جاتا ہے، نفس کا پرستار بن جاتا ہے علم کے باوجود، تو اس کی ساری خوبیاں ختم ہو جاتی ہیں، پھر اس کی کوئی خوبی یاد نہیں کی جاتی بلکہ اس کی برائیوں سے عبرت حاصل کی جاتی ہے اور اس سے نفرت کی جاتی ہے دل میں۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔

​کبھی عیادت کیا؟ کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وہ اگر سامنے سے گزرے، مخاطب بھی کرنا چاہے، سوال بھی کرنا چاہے، منہ پھیر لینا چاہیے، جواب نہیں دینا چاہیے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو پکے مومن مجاہد تھے، بدری صحابی تھے، لیکن ان سے غلطی ہو گئی تھوڑی سی نفس کی اور غزوہ تبوک میں نبی علیہ السلام کے ساتھ نہیں گئے۔ اور اس کے بعد جو ان پہ پابندی لگی ہے، انہوں نے پورا اس پابندی کا وہ کیا۔ سلام کلام کی پابندی تھی، صحابہ بات نہیں کرتے تھے، وہ کوشش کرتے تھے لیکن بات نہیں کی جاتی تھی، 50 دن اس حالت میں گزرے ہیں۔ تو اسلام کے اندر تو یہ ہے، تو اس سے اس کے اوپر چوٹ پڑتی ہے مرتد کے اوپر۔ اگر ذرا سی بھی اس کے ساتھ نرمی کی جائے گی تو اس کی حوصلہ افزائی ہو گی، وہ اور زیادہ اپنے ارتداد میں بڑھ جائے گا، جماعت کو اور زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، آپ کے اوپر اور سر پہ منڈلاتا رہے گا۔

​اور اگر پہلی دفعہ آپ نے ذرا اس کی اچھی طرح سے ٹریٹمنٹ دے دیا اس کو، تھوڑا سا ایسا سلوک کر دیا، پھر وہ قریب نہیں پھٹکنے کی ہمت کرے گا، کیونکہ بزدل ہوتا ہے بہت زیادہ۔ مرتد بہت زیادہ بزدل ہوتا ہے، وہ قریب نہیں پھٹکے گا کبھی۔ یہی سلوک اس کے ساتھ ہونا چاہیے، شاید یہ اس کے حق میں بہتر ہو جائے، اس کو توبہ کی توفیق مل جائے اور جہنم کی آگ سے بچ جائے وہ، ورنہ جہنم ہی جہنم ہے اس کے لیے۔

تلاش کریں