:سوال
سوال کیا گیا ہے کہ کیا کوئی مومن مسلم کسی دیوبندی مسلک پرست کو، قبر کے پجاری کو، نبی علیہ السلام کو عالم الغیب سمجھنے والے، نبی علیہ السلام پر اعمال پیش ہونے کا عقیدہ رکھنے والے اور نبی علیہ السلام کی قبر کی مٹی کو عرش و کرسی سے افضل قرار دینے والا، اس طرح قرآن و حدیث کا مذاق اڑانے والے کو اپنی مومن بیٹی دے سکتا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
ہاں، کوئی اگر اپنی بیٹی کو جہنم کی آگ میں ڈالنا چاہتا ہے، وہ دے دے، ہم تو قطعاً نہیں اس بات کی اجازت دیتے۔ نہ ہم ان مومنوں کی ان کی مشرکوں کی بیٹیاں لینا پسند کرتے ہیں، نہ ان کو بیٹی دینا پسند کرتے ہیں۔ یہ باتیں برابر ہم واضح (کرتے ہیں)۔