کیا کوئی اپنی بیٹی کو اس کی شادی میں اپنی جائیداد میں سے حصہ دے سکتا ہے، تفصیل سے وضاحت کریں؟

:سوال

​کیا کوئی اپنی بیٹی کی شادی پر اسے اپنی جائیداد میں سے حصہ دے؟ اور کیسے ہی تیسرے تیسے تیسرے کہ اور کہے یہ یہ یہی تیرے تیرے لیے حصہ ہے، تو کیا یہ ٹھیک ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

جو اس کا حصہ بنتا ہے شرعی قانونِ وراثت کے لحاظ سے، وہ دے سکتا ہے۔

​زندگی میں اپنی جائیداد کی تقسیم جب بھی کرے تو اس لحاظ سے پورے انصاف، عدل و انصاف کے ساتھ کرے اور عدل و انصاف وہی ہے جو شریعت کے قانون کے مطابق ہو۔

​بیٹوں کو اگر کچھ دے، کسی ایک بیٹے کو دینا دوسرے کو نہ دینا، یہ ناانصافی ہے اور اس میں گناہ ہوگا۔ دیں بیٹوں کو، سب کو برابر دیں۔ بچیوں کو دیں، تو ان کو بھی اسی لحاظ سے دیں۔ جائیداد میں حصہ دیں۔ ویسے تھوڑا بہت مدد کر دینا کسی کی یا کچھ ایسی چیزیں کھانے پینے کی اشیاء، اس میں یہ اس میں شمار نہیں ہوتی ہیں، مگر یہ کہ جو باقاعدہ رقم دینا یا کچھ جائیداد میں حصہ دینا، تو یہ پورا اس کے شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے، ایسا نہیں ہو کہ اس کی شرعی قانون کی، شرعی وراثت کے ذرا سی بھی اس کی اس سے انحراف ہو، اس کی خلاف ورزی ہو، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

​یعنی اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احتیاط فرماتے تھے۔ ایک صحابی غالباً اوس بن اوس ہیں یا کسی مجھے نام صحیح یاد نہیں رہا۔ انہوں نے اپنے بچے کو کچھ دیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے ان سے پوچھا کہ تم نے تمہارے دوسرے بیٹے ہیں، دوسرے بچے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں دوسرے بچے بھی ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے ان کو بھی اتنا ہی دیا ہے جتنا اس بچے کو دیا ہے؟ فرمایا کہ نہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، ان کو بھی دو اتنا۔

​یعنی اس میں پورا انصاف ہونا چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی کسی وجہ سے ایک ماں باپ کا ایک بچے کی طرف زیادہ اس کی ذہانت کی وجہ سے یا کسی وجہ سے زیادہ میلان ہوتا ہے، تو بہرحال اس معاملے میں پورا انصاف سے کام ہونا چاہیے۔ ان کو دیا جائے تو شرعی اس کا پورا لحاظ رکھا جائے۔

تلاش کریں