کیا کسی مسلمان پر جادو ہو سکتا ہے، وضاحت کریں؟

:سوال

کسی مسلمان پر جادو ہو سکتا ہے؟ نیز اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کتنی دیر تک اثرات ہو سکتے ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟  

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

جادو کا اثر تو قرآن سے ثابت ہے اور قرآن سے سورۂ بقرہ میں بھی ذکر ہے، سورۂ اعراف میں بھی ذکر ہے، سورۂ طٰہٰ میں بھی ذکر ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام سے جادوگروں کا مقابلہ کرایا گیا تھا، اس میں جادو کا اثر ہوا۔ مجمعے پہ اثر ہوا، سحر آنکھوں پہ کیا گیا تھا اور اس کا اثر ہوا کہ ان کی جو اشیائے سحر تھیں، ان کی چھڑیاں اور رسیاں وہ ان کو دوڑتی ہوئی معلوم ہوئیں متحرک، تو سانپ کی طرح سے دوڑتی ہوئی معلوم ہوئیں، اس لیے خوف محسوس ہوا، خوف ہونا ہی چاہیے، بشری تقاضا ہے، تو جیسا اور لوگوں کے دلوں میں خوف محسوس ہوا، ایسا ہی موسیٰ علیہ السلام کے دل میں، تو سورۂ طٰہٰ میں ہے غالباً کہ

​جب انہوں نے وہ رسیاں پھینکیں {يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى} تو ان کے سحر کے اثر سے ان کو یہ دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ {فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَى} تو اس کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ تو یہی اثر تھا جو موسیٰ علیہ السلام پر بھی ہوا کہ ان کی آنکھوں نے وہ چیز دیکھی سحر کی وجہ سے، جس نے ان کے دل میں خوف پیدا کر دیا۔

​تو یہ اصل میں وہ ان کی ہیئت نہیں بدلی تھی رسیوں اور چھڑیوں کی، لاٹھیوں کی، لیکن محسوس ہوا ایسا آنکھوں پہ سحر کی وجہ سے۔ تو سحر کا یہی کام ہے کہ وہ ایسی چیز دیکھتا ہے انسان جو حقیقت میں ہوتی نہیں ہے۔

​تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ القِ عصاک، اپنے عصا پھینکو۔ تو عصا پھینکا تو اس کا اثر ظاہر ہو گیا، وہ ویسے کی ویسے نظر آئیں جیسی پڑی ہوئی تھیں وہ جانب، تو یہ اثر ہوتا ہے۔

​نبی علیہ السلام پر جو، یہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نفاثات فی العقد جو کہا گیا ہے کہ گرہ باندھ کر پھونک مارنے والیاں، یہ سحر کرنے کے لیے گرہ لگائی جاتی ہیں ڈوروں میں، دھاگوں وغیرہ میں، تو وہ اس پہ پھونک مارنے والیاں، تو یہ سحر کے لیے ایسا کام ہوتا ہے تو اس، اس کو بھی ایک شر قرار دیا گیا ہے اور اس سے بھی اللہ سے پناہ طلب کی گئی ہے {مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ}۔

​تو یہ قرآن سے اتنا ثابت ہے۔ حدیث سے یہ بتا، ثابت ہے، بخاری اور مسلم کی روایات ہیں اور سنن کی کتنی روایات ہیں جو صحیح ثابت ہے کہ آپ کے خیالات پر اثر ہوا، جو سحر آپ پر کیا گیا تھا، ایک یہودی نے کیا تھا کہ اشیائے سحر کو کنویں میں ڈال دیا تھا اس نے، بنو زریق کے کنویں میں اور آپ کے اوپر یہ اثر ہوا تھا کہ آپ، آپ کے خیالات پہ اثر ہوا {يُخَيَّلُ إِلَيْهِ} وہاں بھی الفاظ وہی ہیں جو قرآن کے الفاظ ہیں، {يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ فَعَلَ شَيْئًا وَلَمْ يَفْعَلْهُ} کہ ان کو یہ خیال ہوتا تھا کہ انہوں نے کوئی کام کیا ہے جبکہ وہ کام کیا نہ ہوتا تھا اور سفیان بن عیینہ اس حدیث کے راوی کہتے ہیں، بہت بڑے تابعی ہیں وہ، کہتے ہیں کہ وہ اصل یہ تھا کہ نبی علیہ السلام بھول جایا کرتے تھے اپنی ازواجِ مطہرات کے ہاں جو آپ جایا کرتے تھے عصر اور مغرب کے درمیان، تو بھول جاتے تھے کسی زوجہ کے ہاں نہیں گئے، آپ سب کے ہاں جاتے تھے، جو عمل کرتے تھے آپ سب کے برابر مساویانہ کرتے تھے، تو آپ کسی کے ہاں جانا بھول گئے، جب دوسرے دن اس کے ہاں گئے تو اس نے شکایت کی، تو آپ کو اس کا بڑا افسوس ہوتا تھا، تو وہ اس کے بعد آپ کے دل میں بڑی تنگی محسوس ہوئی، آپ نے اللہ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کیفیت کو دور کر دے، آپ کو بتایا گیا، تو آپ نے وہ اشیائے سحر نکلوایں اور وہ اثر زائل ہو گیا۔ آپ برابر یہ معوذات رات کو سوتے وقت پڑھا کرتے تھے اور اپنے جسم پر ہاتھ پھیر لیتے تھے، تو یہ روایات بھی بخاری، مسلم کی بھی ہیں اور سنن کی بھی روایات ہیں۔ سنن میں دم کرنے کا بھی ذکر ہے اور صحیحین میں دم کرنا نہیں ہے، صرف پڑھنا اور ہاتھ پھیرنے کا ذکر ہے۔

​تو یہ اثر کے، سحر کے اثرات کی اتنی حقیقت ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ کوئی یہ سمجھے کہ اس سے بیمار ڈال دیا جائے گا، کینسر ہو جائے گا، کسی کو ٹی بی ہو جائے گا یا کوئی گھر کی اشیاء جو ہیں وہ غائب ہو جائیں گی، یہ چیزیں ایسا کوئی ثبوت ہمیں نہیں ملتا ہے۔

​کیا چیز؟ سحر نکلوانا جو آپ نے؟ نہیں، وہ اشیائے سحر، یعنی وہ کنگھی کے اندر جو تا، وہ تاگے وغیرہ باندھ دیے تھے اس نے کرنے والے، ان کا کنگھا منگا کر اور کچھ بال وغیرہ ان کے، تو اس کے اوپر سحر کا کیا گیا تھا عمل، تو وہ اشیائے سحر جب نکالی گئیں اس میں، وہ ختم ہو گیا اثر اس کا، بس یہ۔ وہ نکلوانا مطلب یہ اس کنویں سے نکلوایا اس کو، ایک اندھا کنواں تھا، اس کے قبیلے میں، یہودیوں کے قبیلے میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے مطلع کیا، آپ نے صحابہ کو بھیجا، آپ خود بھی چلے گئے اور آپ نے نکلوایا ان چیزوں کو اور اس کے بعد جیسے ہی نکلوایا، آپ نے ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کے اوپر آپ بندھے ہوئے تھے، کھل گئے آپ بالکل، یہ محسوس ہوا آپ کو، بتایا۔ یہ ایسی کیفیت ہوئی اطمینان کی کیفیت۔

​مگر یہ تخیلاتی تھی، حدیث میں الفاظ جو ہیں تخیلاتی ہیں۔

تلاش کریں