:سوال
فرض صلوٰۃ ٹرین میں کیا ادا کی جا سکتی ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اگر اس قسم کا موقع مل جائے کہ اس کا کہیں طویل قیام ہو، 10 منٹ کا یا 20 منٹ کا تو پہلے سے وضو کر کے تیار ہو جائے انسان اور وہاں اطمینان سے صلوٰۃ ادا کر لے، یہ زیادہ بہتر ہے، صحیح رخ میں۔
اور اگر ایسی مجبوری ہو تو اور بات ہے، وقت پہ ادا کر لے، پھر بعد میں اپنی منزل پر پہنچ کر اس کو، اس صحیح سمت میں ادا کر لے تو زیادہ بہتر ہے، کیونکہ انسان کا کچھ پتا نہیں، کب اس کی موت واقع ہو جائے تو ایک صلوٰۃ اس کی رہ جائے گی، فوت شدہ، تو اس سے یہ ہے۔ بہرحال، وہ ان کے ایسے اسٹاپس ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسانی دی ہے، ایک تو قصر کی آسانی ہے، جس میں آدھا وقت لگتا ہے، چار فرض کے دو فرض پڑھے جاتے ہیں اور سنتیں چھوڑی جا سکتی ہیں اور دوسرے یہ کہ جمع بین الصلاتین، دو صلوٰۃ ملائی جا سکتی ہیں، ظہر اور عصر ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ، تو اس میں بھی یہ سہولت ہے، آپ ایک دفعہ وضو کر لیں، دو صلوٰۃ ادا کر لی آپ نے، دوسری دفعہ وضو کر لیا، باقی دو صلوٰۃ ہو گئیں تو یہ اللہ نے آسانی رکھی ہے، اس کا بڑا فضل و کرم ہے۔ ثواب مالک اتنا ہی دیتا ہے اس آسانی کا، تو اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور یہ ضروری ہے قصر کرنا بھی اور جمع بین الصلاتین کرنا سفر میں ضروری ہے، تو اس میں یہ ہے کہ اگر کہیں لانگ اسٹے ملے، طویل قیام ملے، اس کا زیادہ اسٹاپ ہو ٹرین کا تو وہ ٹائم ٹیبل وغیرہ میں دیکھ کے آپ پورا اپنا پروگرام بنا کے چلیے اور اس جگہ آپ اتر کے صلوٰۃ ادا کیجیے، اپنے پہلے سے وضو کر کے تیار رہیے، ہمارے جب جاتے ہیں قافلے، اس طرح سے ہمارے ساتھی جاتے ہیں پروگرام میں تو ہم اسی طرح کا پروگرام بناتے ہیں اس میں۔
باقی ہے کہ نفل وغیرہ آپ اپنی ٹرین میں ادا کر سکتے ہیں، تہجد بھی ادا کر سکتے ہیں، سفر کے دوران تہجد بھی ادا کی ہے، تو وہ بھی اگر جو عادی ہیں تہجد کے، ان کو ادا کرنا اچھا ہے ان کے لیے۔