:سوال
کیا آپ لوگ نماز کے بعد دعا نہیں مانگتے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
ہم تو نماز کے اندر دعائیں مانگتے ہیں، نماز کے بعد بھی مانگ سکتے ہیں بلا شک و شبہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ دعائیں سب سے زیادہ کب قبول ہوتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا “فِیْ صَلَاۃِ الْمَکْتُوبَہ”۔ آپ بہت زیادہ بخاری مسلم کی روایت میں “سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ” اللہ کی تسبیح بیان کی، حمد کی اللہ کی اللہ تعالیٰ کی اور پھر
پھر مغفرت کی دعا کی اللہ تعالیٰ سے، “اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ”، “سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ” مغفرت کی دعا فرمائی۔ تو یہ رکوع سجدے میں۔ پھر سجدے کی بھی دعا بتائی، “اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ”۔
پھر سلام پھیرنے سے پہلے ساری دعائیں بتائیں، “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ”۔
مومن کی صلاۃ شروع ہوتی ہے دعا سے، “اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ” اے اللہ!
میرے اور میرے خطاؤں کے درمیان ایسا فاصلہ کر دے جیسے مشرق و مغرب کا فائدہ، فاصلہ ہے۔ اے اللہ!
میرے گناہوں کو میرے، مجھ سے ایسے دھو ڈال جیسے سفید کپڑے سے داغ دھبے دھو دیے جاتے ہیں۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی سے، اولوں سے، سے دھو ڈال۔
پھر سلام پھیرنے کے بعد کیا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ بخاری، بخاری میں، مسلم میں، مشکوٰۃ میں آپ کو باب ملیں گے “الدعا فی الصلاۃ والذکر بعد الصلاۃ”، سلام کے بعد ذکر۔ تو سب سے پہلے سلام پھیرنے کے بعد “اللہ اکبر” کہتے تھے نبی علیہ السلام۔ اور صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم سمجھ لیتے تھے صلاۃ ختم ہو گئی۔
اور اس کے بعد “استغفر اللہ” کہتے تھے تین مرتبہ، پھر پڑھتے تھے “اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ”۔ یہ پڑھا کرتے تھے، ام المومنین بیان کرتی ہیں کہ نبی علیہ السلام اپنے مصلّٰی پر اتنی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ پڑھ لیتے تھے اور اس کے بعد دائیں یا بائیں آپ چلے جایا کرتے تھے فجر میں اور مغرب میں، عشاء میں جب سنتیں ہوتی ہیں فرض کے بعد۔
البتہ فجر میں اور عصر میں سنتیں نہیں ہوتی ہیں تو آپ مقتدیوں کے، کی طرف رخ کر کے بیٹھتے تھے، ظہر میں، مغرب اور عشاء میں آپ رخ پھیر کے چلے جاتے تھے دائیں بائیں اور فجر میں اور عصر میں آپ بیٹھتے تھے، فجر میں کوئی اگر خواب دیکھا ہو کسی نے تو آپ اس کے خواب کی تعبیر بتاتے تھے۔ نبی خواب کی تعبیر بتا سکتا ہے اور کوئی نہیں بتا سکتا کیونکہ یہ غیب کی بات ہوا کرتی ہے۔ یہ جو آج کل خواب کی تعبیرات کی کتابیں لکھی ہیں، سب بالکل دھوکا ہے، جھوٹ ہے بالکل، کوئی نہیں بتا سکتا خواب کی تعبیر۔ ہر ایک کے اپنے خواب ہوتے ہیں، خواب کی تعبیر نبی بتایا کرتا ہے، یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی، ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ دیا تھا، یہ علم تھا “تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ” خواب کی تعبیر بتانے کا علم اور انبیاء علیہم السلام بتاتے ہیں، بتاتے تھے۔ عصر میں آپ کو اگر کوئی معاملات ہوتے تھے، اس کے فیصلے کرتے تھے آپ یا کہیں کوئی لشکر، دستہ بھیجنا ہوتا تھا تو وہ بھیجتے تھے۔
تو دعا تو ہم مانگتے ہیں، اَ لیکن ساری صلاۃ میں دعا ہوتی ہے، رکوع میں، سجدے میں، شروع میں اور دیکھیے سورہ فاتحہ آپ ہر رکعت میں پڑھتے ہیں، کتنی عظیم سورہ ہے۔ اللہ تبارک، لوگ بہت ہی ادب کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بہت زیادہ رحیم، غفور، بہت زیادہ مہربان ہونے کی دعا کرتے ہیں اور “مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ” ہونے کا اقرار کرتے ہیں، گویا اللہ کی ربوبیت کا اعلان ہے پوری طرح سے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس سے پھر دعا کی جا رہی ہے، مالک! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ہم کسی اور سے کچھ نہیں مانگتے ہیں، ہم تیرے بندے ہیں، تجھ سے مانگتے ہیں، تیرے ہی ساتھ ہمارا معاملہ ہے۔
تو اب ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے جو تیرا پسندیدہ راستہ ہے، جو ہمیں تیری متعین کی ہوئی، مقرر کی ہوئی منزل تک پہنچانے والا ہے، “اھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ” یہ وہ راستہ ہے جو تیرے انعام پانے والوں کا راستہ ہے اور اس راستے سے ہمیں بچا دینا مالک، جو گمراہ اور ان کا راستہ ہے جن پر تیرا غضب ہے۔
تو یہ کتنی عمدہ دعا ہے یہ، جامع دعا ہے، جامع ترین دعا ہے سورہ فاتحہ۔
تو یہ ہر رکعت میں ہم پڑھتے ہیں، پوری صلاۃ ہماری دعا ہی دعا ہے، اسی لیے صلاۃ کو دعا کا مغز کہا گیا ہے، جس صلاۃ کے اندر دعا نہ ہو تو وہ بے مغز کے کھوپڑا ہے۔ جسدِ بے روح ہے، جس صلاۃ میں دعا نہ کی جائے، تو ساری صلاۃ ہماری دعا ہے۔ مومن اللہ کا بندہ اللہ سے قریب ہوتا ہے اور اپنی التجائیں کرتا ہے اللہ سے، مانگتا ہے، اللہ سے عہد و پیمان کرتا ہے اور بعد میں اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ میں نے اللہ سے عہد و پیمان کیے ہیں، اس کی خلاف ورزی نہیں ہونا چاہیے، تو یہ اپنے رب کا بندے کے ساتھ جو معاملہ ہے، یہ صلاۃ کے اندر بہت زیادہ ہوتا ہے، اسی طرح، اسی لیے فرمایا گیا “إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ” صلاۃ جو ہے، یہ برائیوں سے اور فحش سے روکتی ہے، بے غیرتی کے، بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے اور یہ بہت بڑا عظیم اللہ کا ذکر ہے۔