:سوال
کیا آبِ زمزم کھڑے ہو کر، قبلے کی طرف منہ کر کے پینا سنت ہے؟ کیا آبِ زمزم؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
جی ہاں، یہ سنت ہے، لیکن یہ جو حدیث ہیں وہ وہیں کے لیے ہیں۔ اب یہ کہ اس سے اگر یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ یہاں جو زمزم لے اتے ہیں، اس زمانے میں ایسا تو ہمیں نہیں ملتا ہے کہ لوگ لے جاتے ہوں اور وہاں جا کے بھی کھڑے ہو کے پیتے ہوں، بیت اللہ کے علاوہ بھی دوسری جگہ پہ بھی، اس کا حدیث سے ثبوت نہیں ملتا ہے۔ تو اب جو جس طرح سے سنت کا ہمیں جو عمل جس طرح ملتا ہے، اسی طرح کرنا جو ہے وہ تو صحیح ہے بالکل۔ اس سے ہٹ کے کرنا جو ہے اس کا کوئی ہمیں ثبوت نہیں ملتا کہ اب ہم یہاں بھی اگر زمزم پئیں، تو کھڑے ہو کے کعبے کی طرف رخ کر کے پئیں۔ یہ بات اس سے حدیث سے ثابت۔
ہاں، اگر ایسا ہے تو کھڑے ہو کے آپ نے پی لیا، پھر تو ٹھیک ہے۔ لیکن قبلہ تک رخ منہ کرنا یہ تو میرے خیال میں نہیں ہے اس میں بھی، اس میں بھی نہیں ہے۔ اچھا ہے یہ کھڑے ہو کر پی لیا جائے تو ٹھیک ہے، بہرحال جو چیز ملتی ہے ہمیں حدیث سے اس میں عمل کر لیا جائے، صحیح ہے۔ اس میں کوئی اشکال والی بات نہیں۔