:سوال
کسی سے قرضہ لے کر تعمیرِ مکان کرنا اور اس کو کم کرائے پر دینا، جب وہ مکان خالی کرے گا رقم واپس لے لے گا
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
قرضہ لے کر مکان تعمیر کرنا اور اس کو… تو پھر قرضہ کیسے واپس؟ اگر قرضہ واپس آپ کر سکتے ہیں تو قرضہ ضروریات کے لیے انسان لے لے، لیکن تعمیرِ مکان کے لیے قرضہ لینا… اپنے اگر مکان کی مرمت کرانی ہے اور ضروری ہے، اپنے بچوں کو تکلیف ہوتی ہے، پریشانی ہوتی ہے، اس کے لیے انسان قرضہ لے لے، لیکن کرائے پہ دینے کے لیے مکان کے لیے قرضہ لینا، یہ مناسب نہیں ہے جو کاروبار کر رہا ہے۔
پسِ منظر سے کسی کی آواز: اچھا اچھا، وہ ۲ ہزار… ۱۵ سو کرائے ہوتے ہیں وہ کم لیتے ہیں، کرائے کم لیتے ہیں
اچھا اچھا اچھا، یہ تو اب دوسری بات انہوں نے بتائی کہ وہ کرائے پہ جو لیز والا معاملہ ہوتا ہے، یہ اصل میں وہ قسطوں میں لیتے ہیں پیسہ۔
پسِ منظر سے آواز: نہیں نہیں، وہ پورا پیسہ دیتے ہیں، مکان کے… جب جاتے ہیں تو واپس مل جاتے ہیں لیکن مکان..
اتنا ہی پیسہ لیتے ہیں؟ ہاں تو یہ تو خیر اچھا ہے اگر اس طرح سے کوئی ہے اور ایسا قرضہ مل جائے تو۔ مگر کرایہ وہ لیتے رہتے ہیں اس کا؟
پسِ منظر سے آواز: ‘ایسے تو ۲ ہزار، ۱۵ سو کرائے ہوتے ہیں، مالک کے حساب سے، لیکن ۲۲ سو روپے… فائدہ ملتا ہے، ۲ ہزار کی بجائے پھر ان کو ۵ سو دینا پڑتا ہے، ۱۵ سو فائدہ ہوتا ہے ان کو، ہزار ۱۵ سو۔ جس نے قرض دیا ہے نا، وہ… ہزار ۱۵ سو فائدہ…
نہیں، تو مکان تو انہوں نے… جس نے تعمیر کیا ہے مکان، وہ تو ان کا ہے، تو وہ کرایہ کیوں لیتا ہے؟ کرایہ لینے کا اس کو کیا حق ہے؟ وہ اپنا پیسہ لے سکتا ہے۔
پسِ منظر سے آواز: ‘اس کے پیسوں سے تعمیر کیا ہے نا تو اس سے وہ کرایہ کم لیتے ہیں، پیسوں کی وجہ سے، ہاں
!سود ہے
اس کا مکان تو ہے ہی نہیں! دیکھیے نا، جس نے قرضہ دیا ہے، مکان تو جس نے تعمیر کیا ہے قرضہ لے کے اس کا مکان ہے، تو کرایہ لینے کا وہ حقدار ہے۔ میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید یہ کرائے پہ اٹھائے، وہ کرایہ لینے کا حقدار کیسے ہو گیا؟ وہ کرایہ کہہ کے سود لے رہا ہے اس طرح۔
کرائے کے نام سے سود لے رہا ہے۔ اصل میں بڑا دھوکہ دیا ہے یہودی نے۔ کہیں گاڑیاں دے رہے ہیں، کہیں مشینیں دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ‘یہ آپ ہی کی مشینیں ہیں، آپ ہمیں اپنے کاروبار میں شریک کر لیں اور اتنا دیتے رہیں’۔ اس طرح انہوں نے مختلف طریقوں سے جال پھیلا کے اور سود میں پھنسا دیا ہے انسانوں کو۔ بالکل ایسا نہیں کرنا چاہیے کسی طرح سے بھی۔
بالکل، اللہ تبارک و تعالیٰ توفیق دے، تو اپنے… اپنی حرام معاش میں محنت کی، حلال معاش میں حرام کی آمیزش، ملاوٹ نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے پھر نماز بھی انسان کی قبول نہیں ہوتی، دعا بھی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی اور بہت گناہِ کبیرہ ہے یہ سود لینا جو ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو اعلانِ جنگ قرار دیتا ہے، نہیں کرنا چاہیے ایسا۔