کرائے پر مکان ہو یا دکان ہو تو اس پر زکوٰۃ کیسے ادا کی جائے گی؟

:سوال

کرائے پر مکان ہوں یا دکانیں تو ان پر زکوٰۃ کیسے ادا کی جائے گی؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

اس معاملے میں ہمارا یہی موقف ہے کہ جو کرایہ حاصل ہوتا ہے اس میں جو بھی انسان کی اگر یہ ذریعہ معاش ہے، تو اس میں سے جو بھی رقم خرچ کرنے کے بعد، اپنے گھر کے خرچ کے بعد جو پس انداز ہو، اس پر سال گزرنے کے بعد اگر نصاب کے حدود میں آ جائے تو اس پر زکوٰۃ ادا کی جائے۔ باقی اس کی قیمت پر زکوٰۃ ایسا نہیں، کیونکہ کھیت زمین وغیرہ بھی ہوتی ہے، اس کی زمین کی قیمت پر نہیں دی جاتی، عشر وغیرہ جو فصل اس سے اگائی جاتی ہے، اس پہ زکوٰۃ دی جاتی ہے، تو اسی سے یہ استنباط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ باقی نبی علیہ السلام نے اس بات کو پسند نہیں کیا ہے کہ زمین کو کرائے پہ یا اجارے پہ دیا جائے یا مکان کو کرائے پہ یہ دیا جائے۔ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ مکان ہوں، وہ اپنے مسکین مومن بھائیوں کو، ضرورت مند کو ویسے ہی دے دیں بغیر کرائے کے تو زیادہ اچھا ہے۔ بعض جگہ ایسا ہوتا بھی ہے ہمارے مومن بھائیوں میں۔

​دکان مالیت پر یا سارے سال کی کرائے پر، جی ہاں! دیا جا سکتا ہے کرائے پر اور اس کے سارے سال کی کرائے پر میں سے جو بچت ہو، بچت پہ زکوٰۃ ہوتی ہے۔ جو بچت، فاضل رقم ہوتی ہے نا اخراجات سے، اس پر زکوٰۃ ہوتی ہے۔ ​اگر کرایہ خرچ ہو جائے سب، تو زکوٰۃ نہیں ہو گی اس پہ۔ باقی یہ ہے کہ اگر آپ کے گھر میں زیورات وغیرہ بھی ہیں، قیمتی چیزیں ہیں، پس انداز شدہ رقم ہے، تو اس کو سب کو ملا کر اس کا پورا مجموعہ کر کے اس پہ زکوٰۃ ادا کی جائے گی چالیسواں حصہ۔

تلاش کریں