خواتین کے اعتکاف کی وضاحت کریں؟

:سوال

خواتین کے اعتکاف کی وضاحت کریں؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

یہ خواتین کا اعتکاف، یہ بخاری اور مسلم کی روایت میں ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ برابر اعتکاف فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ اور وفات کے بعد ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا۔ یہ تشریح نہیں ہے اس میں کہ اعتکاف کہاں کیا۔ نبی علیہ السلام کی زندگی میں ازواج نے مسجد میں خیمہ لگایا تھا اعتکاف کے لیے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خیموں کو ہٹا دیا۔

پہلے ایک زوجہ نے کیا، پھر دوسری نے، ان کے دیکھے ہوئے دوسری نے بھی کیا تو آپ نے ان کے خیموں کو ہٹا دیا، تو اس سے یہ تو اندازہ ہو گیا کہ نبی علیہ السلام نے اس سے ناپسند کیا۔ تو اب جس جس چیز سے نبی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں ناپسند کیا تو اس لیے یہ تو اس سے اندازہ ہو گیا کہ انہوں نے اگر اعتکاف کیا بھی ہے تو مسجد میں نہیں کیا ہے۔
​اصل میں خواتین کی مسجد ان کا گھر ہوتی ہے، تو اس میں اگر ایک جگہ وہ متعین کر لیں، مقرر کر لیں اعتکاف کی جگہ سے اس کو معتکف بنا لیں، وہاں اعتکاف کر لیں بشرطیکہ ان کی گھر کی ذمہ داریاں زیادہ نہیں ہیں، وہ اس کی اجازت دیتی ہیں، کوئی اور خواتین ایسی ہوں جیسے کوئی عمر رسیدہ خواتین ہوں، ان کی بہوئیں وغیرہ ہوں گھر کا کام دیکھنے کے لیے یا بیٹیاں ہوں تو اس صورت میں اعتکاف کریں ورنہ یہ اعتکاف کوئی ضروری چیز نہیں ہے ایسی کہ اس کو لازم قرار دیا جائے۔
​اعتکاف کے بغیر بھی خواتین کے لیے جو عبادت ہے، قیام اللیل ہے، قرآن کی تلاوت ہے، ذکر اذکار ہے اس م… اس مقدس مہینے میں، اس بابرکت مہینے میں تو وہ سب اپنے اعتکاف کے بغیر بھی کر سکتی ہیں۔ بہرحال اگر اس کی گنجائش ہے تو کریں شوق سے۔
​مگر یہ ہے کہ گھر میں ہی کریں، یہ مسجد میں کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی جواز نہیں ہے، اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے، ویسے بھی مسجد میں خواتین کے لیے بہت سی دشواریاں ہوتی ہیں، حوائجِ ضروریہ سے فراغت وغیرہ کی اور پھر کھانے وانے کا کیسا ہو، کیا ہو، وہ صرف مر… مسجد جو ہے مردوں ہی کے لیے ہے۔

آڈیو جواب ملاحظہ ہوں

تلاش کریں