کسی دوست یا رشتہ دار کو سرمایہ دے کر اس کی آمدنی میں 50٪ کا حصے دار ہو تو کیا یہ جائز ہے؟

:سوال

اگر ایک شخص کے پاس کچھ سرمایہ ہو اور اس سرمائے کو کسی عزیز، دوست یا رشتہ دار کو دے کاروبار کی غرض سے اور اس کاروبار میں نفع اور نقصان میں برابر کا شریک ہونا شرط ہے تو کیا اس میں آمدنی جائز ہوگی یا نہیں؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

ہاں، اس قسم کے مضاربہ یا شراکت میں کاروبار کی اجازت ہے کہ جو بالکل نفع نقصان کے مطابق ہوتا ہے، طے ہو جائے اور اس میں جو بھی ہو کہ ایک جو، ایک شریک اس طرح سے ہوتا ہے جو اس کے لیے کام بھی کرتا ہے، ورکنگ یا مینجنگ پارٹنر، دوسرا ہے صرف جو اپنا سرمایہ لگاتا ہے، وہ اس، اس طرح سے حصہ دار ہوتا ہے، تو ان کی جو بھی شرائط طے ہو جائیں، اس کی تحریر میں لے آیا جائے، اس کے گواہ بنا لیے جائیں اور نفع اور نقصان دونوں کے اوپر ہو۔ اس کی کوئی ایسا مقرر نہ کیا جائے کہ اتنے لاکھ ہم نے لگایا ہے اس میں تو اتنے ہزار ہمیں ماہانہ ملے گا چاہے نفع ہو یا نقصان ہو کاروبار میں تو یہ ایک سود کی شکل ہوگی اور اگر نفع اور نقصان ہوگا، دونوں چیزیں ہوں گی تو یہ کاروبار سمجھا جائے گا، اسی طرح سے اس میں ہونا چاہیے، یہ آمدنی جائز ہے۔ اور جس میں فکس کیا جاتا ہے، وہ جائز نہیں ہے، درست نہیں ہے۔

تلاش کریں