:سوال
نہیں، اس وقت سلام نہ کیجیے کیونکہ وہ جواب تو دے نہیں سکتا، آہستہ سے آپ سلام کہہ لیں تو اور بات ہے۔ باقی یہ ہے کہ زور سے سلام نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ جواب نہیں دے سکتا اور اس کے اس میں صلاۃ میں خلل بھی پڑے گا۔
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
فجر کی سنتیں اگر قضا ہو جائیں تو قضا فرضوں کے فوراً بعد پڑھ لیں یا سورج نکلنے کے بعد؟ سورج نکلنے کے بعد کیونکہ نبی علیہ السلام نے ایک عام اصول یہ بتایا ہے کہ صلاۃ الفجر کے بعد کوئی نوافل نہیں ہیں طلوعِ آفتاب تک، تو اس لیے طلوعِ آفتاب کے بعد ذرا سورج اونچا ہونے کے بعد جب اشراق کا وقت ہوتا ہے اسی وقت سنت پڑھ لی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ اگر کسی کے رات کو وتر رہ جاتے ہیں، سوتا رہ جائے تو وتر بھی اسی وقت پڑھ لے۔