ابراہیم علیہ السلام کا سورج، چاند اور ستاروں کو رب کہنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کریں؟

:سوال

ابراہیم علیہ السلام کا سورج، چاند، ستارے کو رب کہنے کی صحیح تفسیر بیان کریں۔

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

 تھوڑی دیر کے لیے یا اپنی قوم کے لیے رب کہنا سمجھ سے باہر ہے۔ دراصل یہ مفسرین نے بڑے گل کھلائے ہیں، بہت ستم ڈھایا ہے۔ جیسے یہود و نصاریٰ کے علماء اور مشائخ نے اپنے فسق و فجور کے دفاع اور اس پر پردہ ڈالنے کے لیے انبیاء اور صلحاء پر اتہام تراشی کی ہے، جو واقعات آپ کے سامنے آتے رہے ہیں؛ داؤد علیہ السلام پر الزام اور دوسرے انبیاء علیہم السلام پر الزام اور الزام کے تحت ان کو قتل کرنا، ان کا خون بہانا، ہیکلِ سلیمانی کی زمین کو رنگ دینا خون سے انبیاء علیہم السلام کا۔ قرآن نے ان کے یہ کارنامے ظلم و تشدد کے واقعات بیان کیے ہیں قرآن نے۔

​تو اس طرح کی اتہام تراشیاں یہ ان کو بڑی اچھی معلوم ہوتی ہیں گمراہ لوگوں کو۔ مفسرین نے یہی کچھ گل کھلائے ہیں آپ کو، دیکھیے کہیں موسیٰ علیہ السلام پر لکنت کا الزام ہے، اللہ کے نبی تو ہر لحاظ سے، ہر لحاظ سے سب سے زیادہ با صلاحیت اور ہر قسم کے نقص سے پاک ہوتے ہیں، منتخب شدہ انسان ہوتے ہیں اس امت کے، ان کے اوپر ایسا الزام لگانا، قرآن کی غلط تاویل اور تفسیر کرتے ہوئے!

​تو یہ ان کا وطیرہ رہا ہے، وہی چیزیں اصل میں کبھی کبھی دھوکے میں ڈال دیتی ہیں۔ یہ باتیں اگر تف، تھوڑی سی تاویل کر لیتے، عقل استعمال کر لیتے، تشبیہ اور استعارہ جیسا ہر ادب کے اندر ہوتا ہے، ہر ادب کے اندر تشبیہ اور استعارہ، جس کو سملی، میٹافر کہا جاتا ہے؛ جس میں جو الفاظ ہیں ان سے تعلق نہیں ہوتا اصل مفہوم کو، الفاظ محاورے کے طور پہ استعمال ہوتے ہیں اور ان کا صحیح مفہوم لیا جاتا ہے سیاق و سباق اور قرینے سے۔

​لیکن انہوں نے جو الفاظ ہیں ادیبانہ، فصیح، فصاحت و بلاغت والے اور طنز کے طور پر، طنز کے طور پر، ان کو اسی انداز میں انہوں نے لے کر اس کا مفہوم بیان کر دیا ہے اور پھر اس کے لیے ادھر ادھر کی ہانکنے کی کوشش کی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام غار میں رہے تھے، اتنی پرورش کیا ان کا دورانیہ جو گزرا ہے غار میں گزرا ہے اور اس کے بعد جب وہ غار سے نکل کے آئے ہیں، تو پہلی دفعہ انہوں نے کواکب کو دیکھا، ستاروں کو دیکھا، روشن ستاروں کو، سیاروں کو، چاند کو، سورج کو، چنانچہ اس طرح کے الفاظ ان کے منہ سے نکلے۔ کس قدر نادانی کی بات ہے! حالانکہ ابراہیم علیہ السلام کا یہ دور جو ہے، یہ دعوت کا دور ہے اور اپنی قوم کے عقائد کے اوپر چوٹ لگا رہے ہیں۔ یہ مفسرین، مفسرین کہلاتے ہیں اور ایسی باتیں لکھتے ہیں!

​اسی طرح بے شمار باتیں اس وقت اگر بیان کی جائیں تو بہت وقت لگ جائے گا۔ بہرحال میں اس کی جو کچھ بھی قرآن کے، قرآن کے اصول اور کلیات کے لحاظ سے اس کی، اس کی صحیح تفسیر سمجھی گئی ہے احادیث سے، وہ میں بیان کر دیتا ہوں۔ ہمارا ایک مضمون حبل اللہ میں بھی آیا ہے، پوری اس میں ان باتوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے، اس کا مطالعہ کیجیے گا۔

​دراصل یہ قوم کے جو عقائد، وہ کواکب پرست قوم تھی۔ تباھم پر، توہم پرست قوم تھی۔ ہر قسم کی عقائد کی خرابیاں ان کے ہاں موجود تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے جس انداز سے چوٹ لگائی ہے ان کے عقائد کے اوپر، یعنی نظریاتی طور سے بھی چوٹ لگائی ہے اور پھر اس کے بعد عملی چوٹ بھی لگائی ہے انہوں نے۔ اپنا دست و بازو کو بھی استعمال کیا ہے ان کے بت خانے میں گھس کر۔ یہ اور کسی کا انداز ملتا نہیں ہے۔ اگر مفسرین ذرا یہ بھی دیکھ لیں تو بھی بات ان کے سمجھ میں آ جاتی ہے۔ انہوں نے پہلی چوٹ یہ لگائی ہے ان کے اوپر کہ ظالمو! یہ اٹھنے والا، چمکنے والا اور پھر ماند پڑ جانے والا، یہ تمہارا رب ہے؟ یہ تو ہم بھی کہتے ہیں کبھی کبھی طنز کرنے کے لیے کسی کو؛ جمہوریت کے پرستار کو، جمہوریت کے پیچھے دیوانہ وار دوڑنے والے کو کہتے ہیں کہ دیکھو، اس کا یہ کردار رہا ہے ماضی میں، یہ تمہارا لیڈر ہے، یہ تمہارا رہنما ہے۔ تو یہ ہم اثبات نہیں کر رہے اس کی لیڈری کا، اس کی قابلیت کا اور صلاحیت کا، بلکہ ان کے اوپر چوٹ لگا رہے ہیں ان کی عقل کے اوپر کہ اس کو تم نے لیڈر بنایا، یہ اس قابل نہیں ہے۔

​تو اسی طرح ابراہیم علیہ السلام، علیہ السلام کا یہ انداز ہے کہنے کا، اس کو اب وہ منطقی زبان میں کہتے ہیں ‘حجتِ الزامی’۔ کہ ایک طرح کا طنز کر کے، الزام لگا کر ان کی بے عقلی پر، اور حجت قائم کرنا ان کے اوپر، حجتِ الزامی کہا جاتا ہے اس کو۔ یہ کہا ہے کہ یہ ابھرنے والا اور ڈوبنے والا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ چاند طلوع ہوا، کہا اچھا یہ بہت بڑا، بہت بڑا ہے، بڑا چمکدار اور روشن ہے، یہ تمہارا رب ہے۔ یہ میرا رب۔ اب تمہارا رب کہنے کی بجائے یہ انداز ہے میرا رب، یہ ایک دعوت کا انداز ہے۔ تاکہ ان کو یہ نہ معلوم ہو کہ یہ، یہ بیگانہ ہے ہم سے، اپنا علیحدہ دین ہے اور ہمارے اوپر طنز کر رہا ہے۔ یہ ایک طرح کا چوٹ لگانے کا انداز ہوتا ہے۔ ھذا ربی۔ تو یہ ھذا ربی اس میں اگر آپ صرف ایک ہمزہِ استفہام لگا دیں، أھذا ربی؟ کیا یہ میرا رب ہے؟ تو بات صاف ہو جائے گی۔ لیکن آپ ہمزہ کو، اس کو ہمزہِ استفہامی کو آپ محذوف مان لیں، ایسا ہوتا ہے ادب کے اندر، تو پھر بات صاف ہو جاتی ہے بالکل۔ أھذا ربی؟ تو ھذا ربی کہا اور اس کے بعد کہا کہ یہ تو ابھرا اور اس کے بعد غروب ہو گیا، یہ کیسے ہو سکتا ہے رب!

​پھر سورج کے ساتھ یہی معاملہ ہوا اور پھر صاف آپ کو موقع مل گیا: {يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ}، برات کا اظہار کر دیا۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا ایک نمایاں اور بہت ہی مخصوص انداز ہے، طرۂ امتیاز۔ کہ برات کا اظہار کیا، پھر {إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ} کہہ کر ان کے اوپر ایسی چوٹ لگائی۔

​تو یہ اصل میں محض یہ بات ہے، ورنہ یہ نہیں کہ ابراہیم علیہ السلام واقعی ان کو کواکب کو اور شمس و قمر کو رب سمجھا تھا انہوں نے پہلی نظر میں ان کی، ان کی تابناکی دیکھ کر۔ ایسی بات نہیں ہے، ایسا تو ہم سوچ ہی نہیں سکتے انبیاء علیہم السلام کے بارے میں۔ ایک ایمان والا کبھی ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا ہے، نہ تھوڑی دیر کے لیے، نہ بہت دیر کے لیے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو یہ اصل میں انہوں نے مفسرین نے یہ گل کھلائے، اسی سے یہ خواہ مخواہ یہ انداز ہوتا ہے۔ ایسی چیز ہمیں سوچنا بھی نہیں چاہیے کبھی، نہ ہمیں کبھی ایسی چیز بیان کرنا چاہیے۔

​یہ حجتِ الزامی ایک طریقہ ہوتا ہے، حجتِ الزامی کسی پر آپ ان کی بے عقلی کے اوپر آپ چوٹ لگاتے ہوئے، طنز کرتے ہوئے، ان پر حجت قائم کر دیں، اب وہ لاجواب ہو جاتے ہیں۔ تو یہ انداز ہوتا ہے، ان کی قوم کو لاجواب کر دیا جس طرح آپ نے سب کو پاش پاش کر دیا، ان کی شکلیں بگاڑ دیں، توڑ ڈالا اور بڑے کو چھوڑ دیا۔ اور جب وہ آئے اور کہا ان سے: {أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ}، اے ابراہیم تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ ان کی درگت بنائی، تم نے کیا یہ کام؟ تو آپ نے نہایت ہی اطمینان کے ساتھ ان سے کہہ دیا: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا}، اس نے کیا ہے یہ کام، ان میں بڑا ہے۔ بس اتنی بات جو ہے، ان کے لیے کافی ہے ان کے اوپر چوٹ کرنے کے لیے۔ اور پھر آپ نے فرمایا کہ ان سے پوچھ لو تم، ان چھوٹوں سے، اگر یہ بول سکتے ہوں، تمہیں بتا سکتے ہوں کہ اس نے کیا، کس نے کیا ہے۔ تو ان کے سر لٹک گئے، کہنے لگے ابراہیم تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں ہیں؟ تو آپ نے پھر چوٹ کی کہ ظالمو! بولتے نہیں ہیں، اپنے قاتل کو اور اپنی شکل بگاڑنے والے کو کی نشان دہی بھی نہیں کر سکتے اور تم تو ان کے پجاری بنے ہو کہ تمہاری نفع نقصان ان کے ہاتھ میں ہے!

​تو اس طرح کی چوٹ لگانے کا، جب گھسے ہیں جب بھی ان سے کہا ہے: {أَلَا تَأْكُلُونَ}، کھاتے نہیں ہو تم یہ اتنے بہت سے سامان رکھا ہوا ہے، بڑی بڑی چیزیں انواع و اقسام کی رکھی ہوئی ہیں، کھاتے نہیں ہو؟ جواب نہیں ملا، تو کہتے ہیں: {مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ}، میری قوم تو تمہیں اپنا معبود، اپنا داتا اور مشکل کشا، حاجت روا اور غوث و فریاد رس سمجھتی ہے، ان کو تم سے اولادیں ملتی ہیں، تمہارا، تم سے ساری مرادیں پوری ہوتی ہیں، تم تو ان کی چیزیں کھاتے بھی نہیں ہو کہ شوق سے انہوں نے، بڑے شوق سے تمہارے سامنے یہ پیش کی ہیں یہ چیزیں اور تم کھاتے بھی نہیں ہو؟ اب بولتے کیوں نہیں ہو؟ کیا ہو گیا؟

​تو یہ کیوں کہا ابراہیم علیہ السلام نے؟ کیا ان کو یہ توقع تھی کہ ان سے، ان سے جواب ملے گا؟ ایک انداز ہے ادیبانہ اور جو کچھ انسان جس موقف کو اختیار کر کے گھستا ہے، کسی کام کے لیے آگے بڑھتا ہے، قدم ڈالتا ہے، اس کے لیے اپنے اوپر ہمت، جرات اور اعتماد پیدا کرنے کے لیے۔ تاکہ بحیثیت بشر کوئی اس کے اندر ذرا سی بھی کمزوری نہ آئے، کسی قسم کا خوف اور کسی قسم کی جھجک پیدا نہ ہو اس کام کے کرنے کے لیے۔ بے جھجک انہوں نے ہر کام کیا ہے۔ تو وہی دعوت کا انداز ہے، وہی عمل کر کے دکھایا ہے۔

​تو یہ چیز اگر آپ کے پوری طرح ذہن میں آ جائے، تو ابراہیم علیہ السلام کا پورا واقعہ پس منظر اور پیش منظر آپ کے سامنے آ جائے گا، پھر ساری چیزوں کی تاویل آپ کی سمجھ میں آ جائے گی۔ تو یہ چیزیں سمجھنا ضروری ہے ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں۔ ہم نے حبل اللہ میں پوری اس کی وضاحت کر دی ہے، اس کا آپ مطالعہ کیجیے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ تو مزید اس معاملے میں وضاحت ہو جائے گی۔

تلاش کریں