جب عید الفطر پڑھی جائے تو لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا کر ملتے ہیں، کیا یہ ثابت نہیں ہے؟

:سوال

جب عید الفطر پڑھی جائے تو لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا کر ملتے ہیں، کیا یہ ثابت نہیں ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

 یہ ہندوؤں کا طریقہ ہے ہولی دیوالی پر ملنا۔ مسلمانوں میں عید پر گلے ملنا ثابت نہیں ہے۔ جو معانقہ کہلاتا ہے گلے ملنا، یہ گلے ملنا جب کوئی باہر چلے جائیں، باہر سے آئیں کچھ عرصے کے بعد تو اس وقت معانقہ گلے ملنا، سینے سے لگانا یہ سب چیزیں اس وقت ہوتی ہیں مومن بھائیوں میں، باقی عید کے اوپر یہ ملنا جو ہے یہ ہندوؤں کا طریقہ ہے، اس لیے ہمیں ان کی چیزوں سے۔

​حدیث میں نبی علیہ السلام نے فرمایا مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ جو کسی قوم کی کی نقل کرتا ہے، ان کے جیسے طریقہ اختیار کرتا ہے تو پھر وہ انہی میں شمار ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے محبت ہونا چاہیے، نبی علیہ السلام نے فرمایا مَنْ أَحَبَّ سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، جو مجھ سے محبت کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ تو ہمیں ان کے ہنود، یہود کے تمام طور طریقوں سے، ان کے فیشن سے، ان کی رسموں سے ہمیں نفرت ہونی چاہیے اور ان کی جڑ کاٹنے کا جذبہ ہونا چاہیے ہمارا۔ مواحد جو ہے، وہ رسومات کی جڑ کاٹتا ہے اور سنت کو رائج کرتا ہے، یہ مواحد کے شعار۔

​تو اس لیے ہمیں گلے نہیں ملنا چاہیے، البتہ جب بھی ہم سلام کریں اپنے بھائی سے ملاقات ہو تو مصافحہ کر سکتے ہیں آپ، مصافحہ ایک ہاتھ سے۔

تلاش کریں