حجرِ اسود کی فضیلت میں روشنی ڈالیں؟

:سوال

حجرِ اسود کی فضیلت پر روشنی ڈالیں اور اس سلسلے میں جو روایات میں آیا ہے کہ پہلے یہ سفید تھا اور بعد میں یہ ابن آدم کے گناہوں(سے کالا ہو گیا؟)

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

 یہ روایت تو خیر صحیح نہیں ہے باقی اس کی فضلے، فضیلت کی روایات بہت زیادہ ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چومتے تھے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے ذریعے سے اس کو تعمیر کروایا، جبرائیل علیہ السلام نے آ کے وہ جگہ بتائی اور جب اس کی تعمیر ہو گئی جس وقت تعمیر اس، ہر، مرحلے تک پہنچ گئی جہاں پتھر لگانا تھا تو، اِ، جبرائیل علیہ السلام نے ہی وہ پتھر لا کر ان کو دیا، تو یہ حجرِ اسود وہ پتھر ہے جو اس طرح اللہ کی طرف سے بھجوایا گیا ہے، ابراہیم، ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے سے اور بیت اللہ جو کعبہ ہے اس کا طواف کیا جاتا ہے، حجرِ اسود کو چوما جاتا ہے، اس کے چومنے کی فضیلت ہے، یہ نہیں کہ اس کے چومنے میں کوئی، ا، نفع حاصل ہوتا ہے، کوئی بیماری سے شفا ہوتی ہے، کوئی اور اگر نہ چوما جائے تو کوئی نقصان ہوتا ہے، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

​عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طواف کرتے ہوئے اس کو چوما لیکن اس بات کو زور سے کہا کہ اے پتھ، اے حجرِ اسود میں جانتا ہوں تو پتھر ہے جیسے اور پتھر ہوتے ہیں، تیری فضیلت تو یہ ہے کہ تو یہاں لگا ہوا ہے کعبے میں، میں اس لیے چومتا ہوں میں کبھی نہ چومتا اس کو اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ چوما ہوتا، انہوں نے اس کو چوما ہے، ان کی سنت کی اتباع کرتے ہوئے میں چومتا ہوں، تو اس طرح کسی غیر ضروری عقیدت کا آپ نے بالکل، بے کنی کر دی، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔

​تو اس لیے اس، اس کے ساتھ، یہ عقیدہ جو ہے یہ صحیح نہیں ہے، گناہوں کی وجہ سے سیاہ نہیں ہو گیا ہے، ایسی بھی کوئی صحیح روایت نہیں ملتی کہ یہ پہلے سفید تھا، صحیح تھا جیسا ہے ہمیشہ سے ہی۔

​یہ روایت صحیح نہیں ہے۔

تلاش کریں