فجر کی نماز کی دو سنتیں فرض کے فوراً بعد پڑھ سکتے ہیں؟

:سوال

​صبح کی دو رکعات میں سنت امامت کے بعد ڈائریکٹ پڑھ سکتے ہو؟ امامت کے، اچھا۔ سورج بلند ہونے سے پہلے اگر وقت زوال کا نہ ہو کیونکہ اس بارے میں حدیث ہے؛ آپ نے فجر کی فرض صلات کے بعد ایک شخص کو دیکھا تو اس نے اس سے فرمایا کہ صبح کی صلات دو رکعت ہے، اس نے جواب دیا: میں نے دو رکعت سنت جو فرض سے پہلے نہیں پڑھی تھی اس کو اب پڑھا، تو یہ سن کر آپ خاموش ہو گئے۔

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

​ہاں تو اس سے یہ ملتا ہے، لیکن یہ اتنی قوی روایت نہیں ہے، ابوداؤد ترمذی وغیرہ کی، کیونکہ وہ جو روایت ہے وہ زیادہ قوی ہے جس میں آپ نے صلات کے بعد طلوعِ آفتاب تک صلات ادا کرنے سے منع کیا ہے۔ تو اس لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ اگر سنتیں رہ گئی ہیں تو سورج طلوع ہونے کے بعد ذرا اونچا ہونے کے بعد اس کو ادا کیا جائے۔

​اگرچہ بخاری میں ہے سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھیں لیکن طلوع سے پہلے ادا کرنے کے بارے میں یہ دلیل ہے؛ یہ اصل میں ایسی کمزور روایت جو ہے اگر صحیح روایت کے سے متصادم ہو، تو صحیح روایت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

​کچھ اس حوالے سے مزید الجھن ہو یا کوئی مخصوص مسئلہ زیرِ بحث لانا چاہیں، تو ضرور بتائیے گا؟

تلاش کریں