ایمان کا دعویٰ کرنے والا اگر فلمیں اور ٹی وی دیکھے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟

:سوال

عرض ہے کہ ایک آدمی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، دعویٰ ہے ‘ع’ سے۔ لیکن وہ نمازیں گھر پر پڑھتا ہے، صلاۃ گھر پر ادا اور وہ فلمیں بھی دیکھتا ہے اور ٹی وی بھی، مسلمانوں کے گھر کیا اس کے اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ اس کے بارے میں مسلمانوں کیا کرنا چاہیے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

ایسے آدمی کو سمجھانا چاہیے اور وہ اہ نماز صلاۃ ادا کرتا ہے، تو صلاۃ تو برائیوں سے روکتی ہے، فواحش سے روکتی ہے، منکرات سے روکتی ہے، “اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ؕ وَلَذِكْرُ اللہِ اَکْبَرُ ؕ” صلاۃ تو ایک بہت بڑا ذکر ہے، اللہ کی یاد ہے اور اللہ کی یاد جو ہے انسان کو برائیوں سے بچاتی ہے، تو اس پہ غور و فکر کیا جائے، اگر وہ اس قسم کی حرکتیں کرتا ہے تو اس کو تنبیہ کرنا چاہیے اور ایسی چیزوں سے اس کو اجتناب کرنے کے لیے اس کو زور ڈالنا چاہیے اس پہ، اگر باز نہ آئے تو پھر تھوڑا سا اس کے ساتھ سختی کی جائے کہ کوئی سی پابندی وغیرہ لگائی جائے، مگر یہ ہے ایسے بچے ایسے شخص کو نصیحت کی جاتی رہے تو زیادہ اچھا ہے، انشاء اللہ تبدیلی آئے گی جب ایمان کی دعوت کو اس نے قبول کیا ہے۔

​نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کے ساتھ سختی نہیں کی تھی، قرآن کی آیات آتی تھیں اس میں ان کا پورا آپریشن ہوتا تھا، لیکن نبی علیہ السلام اپنے عمل سے ہمیشہ نرمی کا اظہار فرمایا کرتے تھے، ان کے ساتھ سختی نہیں کرتے تھے، بعد میں ذرا سختی ہونے لگی تھی، سورہ توبہ وغیرہ میں ملتا ہے لیکن شروع میں آیات اترتی تھیں وہ پڑھ لی جاتی تھیں لیکن نبی علیہ السلام اچھا سلوک کرتے تھے ان کے ساتھ۔

تلاش کریں